ہم مذاکرات کے ذریعے ملک کو آگے لے جانا چاہتے ہیں مگر پی ٹی آئی سنجیدہ نہیں، وزیراعظم

جمعرات 30 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) مذاکرات سے بھاگ رہی ہے، ہاؤس کمیٹی بنانے کے لیے تیار ہیں، ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور چاہتے ہیں کہ مذاکرات آگے بڑھیں۔

اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مذاکرات کی پیشکش کو ہم نے کھلے دل سے قبول کیا، ایک کمیٹی بنائی گئی اور پھر مذاکرات شروع ہوئے، کمیٹی نے پی ٹی آئی سے کہا کہ اپنے مطالبات لکھ کر دیں جس پر پی ٹی آئی نے تحریری مطالبات پیش کیے۔

یہ بھی پڑھیں: موجودہ اسٹیبلشمنٹ پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی بیک ڈور مذاکرات نہیں کرےگی، رانا ثنااللہ

وزیراعظم نے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی نے بھی پی ٹی آئی سے کہا کہ ہم بھی لکھ کر جواب دیں گے، 28 جنوری کو میٹنگ ہونا تھا لیکن اس سے پہلے پی ٹی آئی نے انکار کردیا، پی ٹی آئی مذاکرات سے بھاگ رہی ہے۔  انہوں نے کہا کہ  ہاؤس کمیٹی بنانے کے لیے تیار ہیں، ملک کسی انتشار سے مزید نقصان کا متحمل نہیں ہوسکتا، ہاؤس کمیٹی 2014 کے دھرنے کا بھی احاطہ کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ کیا یہ درست نہیں کہ 2018 کے الیکشن کے بعد جب میں کالی پٹیاں باندھ کر اسمبلی میں آیا تو عمران خان نے مجھے کہا کہ ہم ہاؤس کمیٹی بنارہے ہیں جو اس کی ساری تحقیقات کرے گی، کمیٹی کے لیے آپ بھی اپنے ممبرز نامزد کردیں۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی مذاکراتی اجلاس میں بیٹھتی تو توقعات سے کچھ زیادہ ہی لے کر جاتی، عرفان صدیقی

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں عمران خان سے کہا کہ آپ اس کا اعلان کردیں جس پر انہوں نے کمیٹی بنانے کا اعلان کیا، یہ کمیٹی ضرور بنی اور اس کمیٹی کے صرف ایک، دو بار ہی اجلاس ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والے اپنے گریبان میں جھانکیں، 2018 میں ہاؤس کمیٹی بنی تھی، کوئی جوڈیشل کمیشن نہیں بنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی اور مذاکرات کرے، ہم ہاؤس کمیٹی کے لیے تیار ہیں، 2018 کی کمیٹی بھی اپنا کام مکمل کرے اور 2024 کے الیکشن کی تحقیقات کے لیے بھی کمیٹی بنے اور حقائق سامنے لے کر آئے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف نااہل ہونے جارہے ہیں، پی ٹی آئی کا دعویٰ

انہوں نے کہا کہ اگر 26 نومبر کے دھرنے کی بات کی جارہی ہے تو کمیٹی 2014 کے دھرنے کا بھی احاطہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ میں صدق دل اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہوں تاکہ ملک آگے چلے نہ کہ ان کے انتشار کی وجہ سے ملک کو نقصان اٹھانا پڑے، ملک مزید کسی نقصان کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، سیکیورٹی فورسز دہشتگردوں کا بھرپور مقابلہ کررہی ہیں، ابھی ہم نے میجر حمزہ اسرار شہید کی نماز جنازہ ادا کی، انہوں نے دلیری کے ساتھ خوارج کا مقابلہ کیا، میجر حمزہ اسرار اور سپاہی محمد نعیم نے جام شہادت نوش کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دلیری اور قربانیوں کی داستانیں ہر روز سننے کو ملتی ہیں،  قربانیوں کی تکریم اور توقیر ہم سب کا فرض ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے چارٹر آف ڈیمانڈ کا حکومتی کمیٹی نے کیا جواب دیا؟

وزیراعظم نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کی، میرے حساب سے 2 فیصد کمی ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ شرح سود میں کمی سے کاروبار، صنعت اور معیشت کو فائدہ پہنچے گا، ہم دن رات کوشش کررہے ہیں، ہمارا ترقی و خوشحالی کا خواب ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ کے کالے دھندے کے ذریعے پاکستان کے تشخص کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، حکومت اس مسئلے پر بھرپور توجہ دے رہی ہے، کرپشن کرنے اور پاکستان کو بدنام کرنے والوں کو جب تک پکڑ نہ لیں، ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟