امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی ایوی ایشن ذہنی مریضوں اور نفسیاتی افراد کو نوکریاں دیتی ہے۔ انہوں نے واشنگٹن میں مسافر طیارے اور فوجی ہیلی کاپٹر کے تصادم کا ذمہ دار ایوی ایشن اتھارٹی اور ملٹری کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہترین نگاہ رکھنے والے لوگوں کو کچھ نظر نہیں آیا اور ہیلی کاپٹر طیارے سے جا ٹکرایا۔ حادثے سے بچا جاسکتا تھا مگر ایسا نہیں ہوا۔
ان کا کہنا ہے کہ آپریشن اب ریکوری مشن میں تبدیل ہوگیا ہے۔ افسوس کے ساتھ بتا رہا ہوں کہ کوئی زندہ نہیں بچا۔ ایوی ایشن، ٹرانسپورٹ اور فوج مکمل اور جامع تحقیقات کر رہی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا’ امریکی ایوی ایشن ذہنی مریضوں اور نفسیاتی افراد کو نوکریاں دیتی ہے۔ یہ حیرت انگیز ہے۔ کچھ لوگوں کو پتہ تھا کہ کیا ہورہا ہے لیکن انہوں نے دیر سے خبردار کیا۔ ملٹری ہیلی کاپٹر والے کہاں جا رہے تھے، میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ بہترین نگاہ رکھنے والے دیکھ نہ سکیں کہ ان کے سامنے کیا ہو رہا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیےامریکی مسافر طیارے اور فوجی ہیلی کاپٹر میں تصادم، تمام 67 افراد ہلاک
صحافی نے سوال کیا کہ آپ نے کیسے نتیجہ نکالا کہ ایوی ایشن اس کی ذمہ دار ہے؟
ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب دیا’ کیونکہ میرے پاس کامن سینس ہے، بدقسمتی سے اکثر لوگوں میں نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیےامریکی حادثے میں تباہ ہونے والا بلیک ہاک ہیلی کاپٹر ماضی میں کب کب حادثات کا شکار ہوا؟
یاد رہے کہ گزشتہ روز واشنگٹن ڈی سی میں امریکن ایئرلائنز کا ایک طیارہ بلیک ہاک ہیلی کاپٹر سے ٹکرا کر دریائے پوٹومیک میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں عملے سمیت تمام مسافر ہلاک ہو گئے ہیں۔
طیارہ وچیٹا، کنساس سے آیا تھا اوراس میں 60 مسافراور عملے کے 4 ارکان سوار تھے۔ جبکہ فوجی ہیلی کاپٹر میں 3 فوجی سوار تھے۔














