مصنوعی ذہانت کے بڑھتے معاشرتی اثرات تباہ کن ہو سکتے ہیں، سی ای او گوگل سندر پچائی

بدھ 19 اپریل 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گوگل اور الفابیٹ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سندر پچائی کہتے ہیں کہ ہر کمپنی کی ہر پروڈکٹ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی سے متاثر ہو گی۔ تاہم انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ معاشرے کو ان ٹیکنالوجیز کے لیے تیاری کرنے کی ضرورت ہے جنہیں پہلے ہی جاری کیا جاچکا ہے۔

گوگل نے گزشتہ ماہ اپنا مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس چیٹ بوٹ ’بارڈ‘ کا عوامی اجرا ایک تجرباتی پروڈکٹ کے طور پر کیا تھا۔ گوگل کا یہ قدم مائیکروسافٹ کی پیروی میں تھا جس نے جنوری میں اپنے سرچ انجن میں جی پی ٹی ٹیکنالوجی شام کرنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی ٹیلی ویژن سی بی ایس کے مقبول ترین شو سکسٹی منٹس میں انٹرویو کے دوران گوگل کے سربراہ سندر پچائی نے بتایا کہ ’بارڈ‘ فعالیت کے ساتھ ساتھ کے ساتھ ایک بلیک باکس ہے جسکو سمجھنا مشکل ہے کہ یہ کب اور کیسے رد عمل دے گا۔

جس پر ٹی شو کے میزبان نے حیرت سے دریافت کیا کہ کیسے ممکن ہے کہ آپ اسکو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکیں گے، جس پر سندر پچائی کا کہنا تھا کہ بالکل اسی طرح جیسے ہم آج تک انسانی دماغ کو بھی مکمل طور پر نہیں سمجھ پائے کہ وہ کیسے چلتا ہے۔

مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے جڑے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے انٹرویو کے دوران سندر پچائی نے کہا کہ اے آئی ٹیکنالوجی کےتیزی سے پھیلاؤ کے فوائد اپنی جگہ لیکن اگر اس ٹیکنالوجی کو غلط انداز سے استعمال کیا گیا تو یہ بہت نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

’یہی وجہ ہے کہ میں اس حوالے سے سوچنے پر مجبور ہوں۔۔۔ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کا یہ پہلو مجھے رات بھر جگائے رکھتا ہے۔‘

سندر پچائی کے مطابق مصنوعی ذہانت کے بڑھتے اثرات معاشرے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کے اثرات سے جتنا بچا جا سکتا ہے خود کو بچائیں۔

گوگل کے سربراہ کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹیکنالوجی کے ممکنہ نقصان دہ اثرات سے بچنے کے لیے اس شعبے کو ریگولیٹ کرنا بہت ضروری ہے۔

’ہمیں اس طرح کی ٹیکنالوجیز کے لیے اب تیار ہو جانا چاہیے اور اس کے لیے بہترین قانون سازی کرنا بہت ضروری ہے۔ اگر یہ نا کیا گیا تو جعلی خبروں اور تصاویر کا مسئلہ اتنا بڑھ جائےگا جو معاشرے کے لیے بہت نقصان کا باعث ہو سکتا ہے۔‘

سندر پچائی کا موقف تھا کہ معاشرہ ابھی مصنوعی ذہانت کی اس قدر تیز رفتار ترقی کے لیے تیار ہی نہیں ہے۔ آنے والے وقتوں میں یہ ٹیکنالوجی ہر کمپنی کے تمام شعبوں پر اثر انداز ہو گی۔ اسی لیے اس سے متعلق قانون سازی کا اختیار صرف اسکو بنانے والی کمپنی کو نہیں دیا جانا چاہیے۔

’ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ مصنوعی ذہانت کی یہ ٹیکنالوجی بہت سارے شعبوں میں ملازمتوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جن میں مصنف، اکاؤنٹنٹ، آرکیٹیکٹ یہاں تک کہ سافٹ ویئر انجنیئر بھی شامل ہیں۔ مثال کے طور پر آئندہ 5 سے 10 سال میں ریڈیو لوجسٹ کا کام مصنوعی ذہانت کی مرہون منت ہوگا۔

سند پچائی کا کہنا تھا کہ ہمیں چیٹ جی پی ٹی سے سبق سیکھنا چاہیئے۔ ایسی زیادہ طاقتور ٹیکنالوجی کو اس وقت تک متعارف نہیں کرانا چاہیے جب تک معاشرہ اس کے لیے تیار نہ ہو۔

سندر پچائی کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا زیادہ استعمال ڈیپ فیک ویڈیوز کی تیاری کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ اس سے معاشرے میں غلط خبروں اور معلومات میں اضافہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کو ریگولیشن کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انسٹاگرام پر 90 منٹ تک کی طویل ویڈیوز پوسٹ کرنے کا نیا فیچر متعارف

سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

پاکستان کو بدنام کرنے کی نئی سازش پکڑی گئی، طالبان انٹیلی جنس  کا اعترافی بیانات پر مبنی منفی منصوبے پر کام جاری

شاندانہ گلزار کے بیان پر علی امین گنڈاپور کا سخت ردعمل، مبینہ لیکڈ آڈیو سامنے آگئی

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں