کیا گورنر بلوچستان صوبائی حکومت کارکردگی سے مطمئن نہیں؟

اتوار 2 فروری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یوں تو بلوچستان ان دنوں یخ بستہ ہواؤں کی لپیٹ میں ہے، مگر صوبے میں سیاسی درجہ حرارت بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ حالیہ چند دنوں میں نون لیگ کے صوبائی صدر اور گورنر بلوچستان شیخ جعفرمندو خیل نے ڈھکے چھپے الفاظ میں حکومت پر تنقید کے تیر برسائے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی فنڈز کا آج تک کوئی حساب کتاب نہیں، گورنر بلوچستان جعفر مندوخیل

ابھی بہت سارے امتحانات باقی ہیں

کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے گورنربلوچستان شیخ جعفرمندوخیل کا کہنا تھا کہ میں نہیں سمجھتا کہ ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ اپنی تعریف کریں۔ ابھی بہت سارے امتحانات باقی ہیں اور ہم نے ابھی کافی کام کرنا ہے۔

 قیام امن کی ذمہ داری وفاق پر نہیں

ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں قیام امن کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے نہ کہ وفاق کی۔ چند ایسی چیزیں ہیں جنہیں سیکیورٹی فورسز دیکھتی ہیں۔ بلوچستان 1979سے کانفلیکٹ زون میں ہے۔ امن وامان کی صورتحال خراب کرنے میں بیرونی طاقتوں کا ہاتھ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان کی ہر باصلاحیت اور پوزیشن ہولڈر طالبہ کو پنک اسکوٹی دیں گے، وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی

10 ہزار ارب آمدن

 جعفر مندوخیل کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی کل آمدن 10 ہزار ارب ہے اور سود کی ادائیگی بھی 10 ہزار ارب ہے، اگر وفا ق ہمیں بقایا جات ادا کریگا تو ظاہر سی بات ہے کہیں سے لیکر ہی دے گا۔

انفراسٹرکچر کے لیے پیکیج وفاق خود فراہم کرے

شیخ جعفر مندوخیل نے کہا کہ بہتر ہے کہ بلوچستان میں انفراسٹرکچر کے لیے پیکیج وفاق خود فراہم کرے۔ اگر فنڈز ہمارے حوالے کیے گئے تو ہمارے لوگ اسکا صحیح استعمال نہیں کریں گے۔

وفاق اور صوبے کے درمیان معاملات

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق گورنر بلوچستان صوبے میں وفاق کی نمائندگی کر رہے ہیں اور وفاق اور صوبے کے درمیان معاملات کم ہی بہتر ہوئے ہیں۔ صوبائی حکومت ہمیشہ وفاق کے رویے سے متعلق نالاں نظر آتی رہی ہے۔

حکومتیں یہ دعویٰ کرتی رہی ہیں کہ وفاق، صوبے کو نہ تو بہتر فنڈز فراہم کرتا ہے اور نہ ہی بروقت فنڈز دیے جاتے ہیں، جس صوبے میں ترقیاتی کاموں پر منفی اثر ہوتا ہے۔

وفاق، صوبے میں دلچسپی نہیں رکھتا

اس کے علاوہ صوبائی حکومتوں کا یہ بھی مؤقف رہا ہے کہ وفاق، صوبے میں دلچسپی نہیں رکھتا جس کی ایک واضح مثال صوبے میں موٹروے جیسے بڑے منصوبوں کا نہ ہونا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان اسمبلی کے باہر بیک وقت 4 احتجاجی مظاہرے، ارکان اسمبلی سے مذاکرات

معاملات کھل کر سامنے نہیں آئے

دوسری جانب گورنر بلوچستان کے حالیہ بیانات اس بات کی جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ شیخ جعفر بندخیل صوبائی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔ وہ حکومت بلوچستان پر ڈھکے چھپے الفاظ میں تنقید کر رہے ہیں تاہم ابھی تک معاملات کھل کر سامنے نہیں آئے۔

فارمولہ حکومت

تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت صوبہ میں گزشتہ ایک سال سے موجود ہے، اس دوران نون لیگ کے رکن صوبائی اسمبلی ڈھائی ڈھائی سالہ حکومتی فارمولے کا راگ الاپ رہے ہیں، جبکہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کا سینٹر ایسے کسی بھی فارمولے کی تصدیق نہیں کر رہا۔ ایسے میں دونوں حکومتی جماعتوں کے درمیان معاملات ائندہ ایک سال تک مزید واضح ہو جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بِمان بنگلہ دیش ایئرلائنز کی پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں کا آغاز 29 جنوری سے ہوگا

  خواتین اور بچوں کی نازیبا تصاویر، گروک کے خلاف دنیا بھر میں تحقیقات کا مطالبہ

سابق این سی پی رہنما میر ارشد الحق کی بی این پی میں شمولیت

سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ٹوکنائزیشن، وزیر خزانہ کی عالمی وفد سے ملاقات

کرکٹ بورڈ کو الٹی میٹم دینے کی بھارتی خبریں غلط اور غیر مستند ہیں، بنگلادیش

ویڈیو

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

جعلی مقدمات قائم کرنے سے لوگ ہیرو بن جاتے ہیں، میاں داؤد ایڈووکیٹ

عمران خان نے کہا تھا کہ ’فوج میری ہے اور میں فوج کا ہوں‘، شاندانہ گلزار

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟