’ فلسطین سے متعلق مؤقف غیرمتزلزل ہے ‘، ٹرمپ نیتن یاہو پریس کانفرنس پر سعودی عرب کا سخت ردعمل

بدھ 5 فروری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ہمراہ واشنگٹن میں مشترکہ کانفرنس کرتے ہوئے فلسطین پر قبضہ کرنے کا اعلان کیا تھا، جس پر سعودی عرب نے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے مملکت کا مؤقف اٹل، غیر متزلزل اور غیر مشروط ہے، سعودی عرب کسی بھی قسم کی سودے بازی یا مذاکرات کا حصہ نہیں بن سکتا۔

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے فلسطین سے متعلق مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے 15 ربیع الأول 1446 (18 ستمبر 2024) کو مجلس شوریٰ کے پہلے اجلاس کے افتتاحی خطاب میں اس مؤقف کو دوٹوک الفاظ میں دہرایا، اور واضح کیا کہ مملکت فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطین اسرائیل معاہدہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی بنیاد فراہم کرتا ہے، سعودی عرب

سعودی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق، اسی طرح، 9 جمادی الاول 1446 (11 نومبر 2024) کو ریاض میں منعقدہ غیرمعمولی عرب اسلامی سربراہی اجلاس میں بھی ولی عہد نے اس مؤقف کو دہرایا اور کہا کہ سعودی عرب 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور اس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم (القدس) بنانے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ انہوں نے اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور مزید ممالک کی جانب سے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ سعودی عرب فلسطینی عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کرے گا، چاہے وہ اسرائیلی بستیوں کی تعمیر ہو، فلسطینی سرزمین کا انضمام ہو یا جبری بے دخلی کی کوششیں۔ عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ فلسطینی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینیوں کو آزاد ریاست ملنے تک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں ہوں گے، سعودی عرب

وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ مملکت کا فلسطین سے متعلق مؤقف کسی بھی سودے بازی یا مذاکرات کا حصہ نہیں، اور عالمی امن کے قیام کے لیے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی بحالی ضروری ہے۔ سعودی عرب نے اس مؤقف سے متعلق اپنی پوزیشن امریکی انتظامیہ کو بھی دوٹوک انداز میں واضح کر دی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز واشنگٹن میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے کہا تھا کہ امریکا غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لے گا اور ہم اس کے مالک ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس قبضے کا مقصد اس علاقے میں استحکام لانا ہے، جس کے لیے طویل عرصہ تک غزہ امریکا کی ملکیت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا غزہ کی ترقی کے لیے کام کرے گا اور علاقے کے لوگوں کو ملازمتیں دے گا، اور وہاں شہریوں کو بسایا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے، اسے فوری اقدامات کرنا ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال

سعودی عرب میں ذوالحج کا چاند نظر آگیا، عیدالاضحیٰ 27 مئی کو منائی جائےگی

سابق کپتان بابر اعظم کا ایک اور اعزاز، اہم سنگ میل عبور کرلیا

ویڈیو

چین سے امریکا اور ایران تک، دنیا کا پاکستان پر اعتماد، اسلام آباد کے شہریوں کی حکومت اور پاک فوج کو خراجِ تحسین

معذور افراد کو بااختیار بنانے کے لیے مین اسٹریم سوشل آرگنائزیشن مشن امریکا کی کوششیں

حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات جاری، آئندہ مالی سال کا بجٹ کیسا تیار ہونے جا رہا ہے؟

کالم / تجزیہ

قدم قدم سوئے حرم

میڈیا اور پروپیگنڈا

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں