عالمی بینک کے نجی سرمایہ کاری شعبے کے ادراے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی)کے سربراہ مختار ڈیوپ نے کہا ہے کہ ان کا ادارہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر فنانسنگ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایکویٹی سرمایہ کاری میں اضافہ کر رہا ہے اور ایک دہائی کے دوران سالانہ 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت معاشی استحکام لائی ہے، معیشت کے اعدادوشمار مثبت ہیں، مفتاح اسماعیل
انہوں نے یہ بات گزشتہ روز برطانوی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
مختار ڈیوپ نے کہا کہ اب شاید اکتوبر کے دوران ہم کچھ ٹرانزیکشنز پر کافی پیش رفت کر سکیں گے جو اس بات کا عندیہ ہو گا کہ پاکستان اہم انفراسٹرکچر کے لیے بڑے پیمانے پر بین الاقوامی فنانسنگ حاصل کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نےکہا کہ اگرچہ 2 ارب ڈالر کی سالانہ سرمایہ کاری پاکستان کے لیے بہت زیادہ نہیں جس کو بین الاقوامی ہوائی اڈوں، توانائی، پانی اور بندرگاہوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایم ڈی آئی ایم ایف نے اعتراف کیا کہ ہماری معیشت درست سمت گامزن ہے، وزیرخزانہ
برطانوی میڈیا کے مطابق جون میں ختم ہونے والے مالی سال 2024 کے دوران آئی ایف سی کی پاکستان میں 2.1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری تھی جو ملک کی 350 ارب ڈالر کی معیشت میں اس کی ریکارڈ سرمایہ کاری کی نشاندہی کرتی ہے۔

مختار ڈیوپ نے کہا کہ آئی ایف سی زراعت، بنیادی ڈھانچہ ،انتہائی اہم مالیاتی شعبے اور ڈیجیٹل سیکٹرز کو دیکھ رہا ہے۔ پاکستان میں بھی ایکویٹی پر مبنی ٹرانزیکشنز کی توقع کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ قرض ہمارے کاروبار میں اب بھی ایک بہت اہم حصہ رہے گا تاہم ہماری ایکویٹی دنیا بھر سمیت پاکستان میں بھی بڑھے گی،ہمیں واقعی یقین ہے کہ ہم پاکستان میں ایک طویل عرصے تک ایکویٹی لے سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ عالمی بینک کے جنوری میں اعلان کردہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت پاکستان کے لیے 20 ارب ڈالر تک مختص کرنے کے منصوبوں کے بعد آئی ایف سی کے سربراہ مختار ڈیوپ پاکستان کے پہلے دورہ پر ہیں، جس میں آئی ایف سی نے بھی اتنی ہی رقم کی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔














