صدر مملکت آصف زرداری نے ابو ظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید آل نہیان کو نشان پاکستان عطا کردیا

جمعرات 27 فروری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ابو ظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید آل نہیان کو جمعرات کو ایک باوقار تقریب میں نشان پاکستان عطا کیا۔ تقریب میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، وفاقی کابینہ کے اراکین اور معززین بھی شریک تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ابو ظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید آل نہیان اسلام آباد پہنچ گئے

شیخ خالد بن محمد بن زاید آل نہیان جمعرات کو پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر آصف زرداری نے ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا تھا۔

وزارت خارجہ کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کو اجاگر کرتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ اقتصادی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

نشان پاکستان دیے جانے والی تقریب میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی بھی موجود تھے جبکہ تقریب میں کاروباری شخصیات اور حکومت کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹرمپ کی ایران کیخلاف معاشی جنگ تیز کرنے کی تیاری، تہران نے جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی

ایران جنگ کی کوریج پر تنازع، پینٹاگون نے ’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ کے سربراہان کو نکال دیا

لارڈز ٹیسٹ: پاکستان ٹیم میں تبدیلیوں کا امکان، کپتان بابراعظم کی واپسی متوقع

طالبان کا نیا پولیس قانون، مظاہروں پر مکمل پابندی، مشتبہ افراد کی حراست اور سزا کے اختیارات میں اضافہ

کم نمبروں پر مشتعل طلبہ کا خاتون ٹیچر پر حملہ، کلاس روم میں ہنگامہ، ویڈیو وائرل

ویڈیو

ٹرمپ کی ایران کیخلاف معاشی جنگ تیز کرنے کی تیاری، تہران نے جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی پبلک سیفٹی ایپ، خصوصی افراد کے لیے مؤثر سہولت

میدان میں حریف کھلاڑی کو تھپڑ مارنے پر سپر اسٹار لیونل میسی پر جرمانہ عائد

کالم / تجزیہ

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟