اسلام آباد میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا اجلاس ہوا جس میں پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن اور ایف بی آر کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے 2 پیراز پیش کیے گئے۔ آڈٹ حکام کے مطابق مالی سال 2023-24 میں ایک ارب 15 کروڑ روپے کی خریداریوں میں بےضابطگی ہوئی۔
اس موقع پر پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے چیئرمین نے اجلاس کو بتایا کہ کے۔2 پاؤر پلانٹ کو آپریشنل رکھنے کے لیے ہنگامی طور پر اسپیئر پارٹس کی خریداری کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان کے سرکاری افسران زکوٰۃ کی رقم ڈکار گئے، آڈٹ جنرل کی رپورٹ میں انکشاف
اجلاس میں پی اے سی کے چیئرمین نے پوچھا کہ وزارت قانون کا نمائندہ کہاں ہیں فوراً بلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انونٹری میں یک دم کیسے کمی ہوگئی، فرنیچر اور اسٹیشنری کی خریداری بھی ایمرجنسی میں کی گئی۔
ممبر اے پی سی ریاض فتیانہ نے کہا کہ یہ خریداری 4 مہینے میں کی گئی اس کا مطلب ہے یہ کہ ایمرجنسی نہیں تھی جبکہ عمر ایوب کا کہنا تھا کہ بڑے ادارے تو ایمرجسنی کے لیے پہلے سے پلاننگ کرتے ہیں، دوسری جانب نوید قمر نے کہا کہ اسپیئر پارٹس اگر مقامی مارکیٹ سے مل جاتے ہیں تو چین سے منگوانے کی کیا ضرورت ہے؟ اس خریداری میں کوئی مسابقت نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: کرپشن میں اضافہ، پاکستان دنیا کا 46واں کرپٹ ملک قرار
پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے حکام نے جواب دیا کہ یہ اسپیئر پارٹس کووڈ کے دوران خریدے گئے اور ساری خریداری قوانین کے مطابق کی گئی تاہم چیئرمین ایٹمی توانائی کمیشن نے یہ بھی کہا کہ یہ کووڈ کے دوران ہوا آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔














