امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیروت پر ہونے والے حالیہ اسرائیلی حملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی نہیں ہونی چاہیے تھی، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران کے ساتھ امن معاہدے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہو رہی ہے اور فریقین ایک معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل، پاکستان کی کامیاب سفارتکاری نے دنیا کو بڑی مشکل سے بچا لیا
سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ اسرائیل کو اپنے خلاف خطرات سے دفاع کا حق حاصل ہے، تاہم جس حملے کے جواب میں یہ کارروائی کی گئی، وہ انتہائی معمولی اور غیر اہم نوعیت کا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اس واقعے میں نہ کوئی شخص ہلاک ہوا، نہ زخمی ہوا اور نہ ہی کسی کو کوئی نقصان پہنچا، اس لیے اسے اس اہم سفارتی عمل میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ ہم ایک ایسے معاہدے کے بہت قریب ہیں جو نہ صرف پورے خطے بلکہ لبنان میں بھی امن کے قیام کا سبب بن سکتا ہے، لہٰذا تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی لانی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہاکہ لبنان میں اسرائیل کی جانب سے مزید کوئی حملہ نہیں ہونا چاہیے، تاہم اسی طرح کسی دوسرے فریق، بشمول حزب اللہ کو بھی اسرائیل کے خلاف مزید کارروائیوں سے باز رہنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور یورپی یونین کا امریکا ایران پیش رفت پر تبادلہ خیال، سفارتکاری کو مسئلے کا حل قرار
امریکی صدر کے مطابق یہ ایک طویل اور خوبصورت امن کے آغاز کا موقع ثابت ہو سکتا ہے، اسے ضائع نہ کریں۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے پر الیکٹرانک دستخط آج ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے، تاہم اسرائیل نے بیروت کے جنوبی علاقے کی عمارت پر فضائی حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 4 زخمی ہوگئے۔














