وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کہتے ہیں کہ وہ ریلوے کا سسٹم ٹھیک کرنے آئے ہیں کیونکہ ریلوے کا سارا نظام ہی خراب ہے۔ ریلوے کے شعبے میں بھارت کا مقابلہ کرنے کی کوشش کریں گے
نجی ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ انہیں وزارت دینے کا فیصلہ خالصتاً وزیراعظم کا ہے۔ وہ ریلوے کی وزارت کو ایک چیلنج سمجھتے ہیں، وہ ریلوے کا سسٹم ٹھیک کرنے آئے ہیں کیونکہ ریلوے کا سارا نظام ہی خراب ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنے سیاسی حریف(شیخ رشید) کی طرح چلتی ٹرینوں کے نام نہیں بدلیں گے۔
’میں آن گراؤنڈ کام کرنے والا پریکٹیکل قسم کا آدمی ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ ایم ایل ون پر ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔ اگرچین نے تعاون کیا تو ٹھیک ورنہ نجی شعبے کی مدد سے منصوبہ مکمل کریں گے۔ اس منصوبے کا مقصد ٹریک ڈبل اور تبدیل کرنا ہے۔ جب ٹریک ہی نہیں ہے تو 160 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار والی ٹرین کا کیا فائدہ ہوگا؟
ایک سوال کے جواب میں حنیف عباسی نے کہا کہ ریلوے کی زمین کو بیچ نہیں سکتے لیکن لیز پر دے سکتے ہیں۔ ریلوے کی زمین لیز پر دینے کے لیے وزیراعظم نے اعلیٰ اختیاراتی بورڈ بنایا، اس میں پرائیویٹ سیکٹر سے لوگ لیے ہیں۔ ہم پرائم لینڈ اس بورڈ کے حوالے کر رہے ہیں۔ بورڈ زمین کی قدر و قیمت کا اندازہ کرے گا۔ اس سے ملنے والا پیسہ بھی ریلوے کی ترقی پر لگایا جائے گا۔ وہ ریلوے کے شعبے میں بھارت کا مقابلہ کرنے کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے کہا کے پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ جو ٹرینیں چل رہی ہیں، ان کا منافع بھی اچھا آ رہا ہے۔ پہلے سال 39 ارب روپے تھا، اس کے بعد 47 ارب روپے تھا۔ اس سال ہمارا ہدف 55 ارب روپے کا ہے۔ ان شااللہ ہم اس ہدف کو حاصل کریں گے۔
ریلوے کی سیکورٹی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر ریلوے نے کہا کہ ریلوے کی سیکورٹی کا کوئی ایشو نہیں ہے۔ غیر ملکی طاقتیں پاکستان کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا اس وقت ریلوے پولیس کے جو آئی جی آئے ہیں، انہوں نے نیکٹا کو کھڑا کیا۔ انہوں نے بلوچستان کی پولیس کو مضبوط کیا، ہم نے انہیں ٹاسک دیا ہے کہ آپ ریلوے کی پولیس کو بھی اسی طرح کھڑا کریں۔













