جو صارفین سولر نیٹ میٹرنگ پر نہیں وہ اس کا بوجھ کیوں اٹھائیں؟ وزیر توانائی اویس لغاری

پیر 17 مارچ 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر توانائی اویس احمد لغاری نے کہا ہے کہ نیٹ میٹرنگ والے صارفین نے شمسی توانائی پر سرمایہ کاری کی تھی اور انہیں ملنے والا 27 روپے کا منافع وِنڈ فال منافع تھا جسے ہم 10 روپے کے مناسب منافع پر لے آئے۔

ایک نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اگلے 8 سالوں میں مزید 8 ہزار میگاواٹ شمسی توانائی سے بجلی پیدا ہونے کی امید ہے، اگر ہم نیٹ میٹرنگ کی قیمت پر نظرثانی نہ کرتے تو خسارہ اور بھی بڑھ جاتا۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ سولر نیٹ میٹر پر نہیں وہ شمسی توانائی استعمال کرنے والوں کے بوجھ اپنے سر پر کیوں اٹھائیں؟

یہ بھی پڑھیے: سولر نیٹ میٹرنگ بجلی کے صارفین سے 18 فیصد سیلز ٹیکس وصول کرنے کے احکامات جاری

ان کا کہنا تھا کہ نئی پالیسی سے موجودہ 2 لاکھ 83 ہزار صارفین کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، امید ہے کہ اس سے سولر نیٹ میٹرنگ کی تنصیب میں بھی کوئی کمی نہیں آئے گی۔

اویس احمد لغاری نے دعویٰ کیا کہ ہم سے پہلے حکومت نے ہم پر 17 ہزار میگاواٹ کی مزید بجلی خریدنے کا بوجھ ڈالا ہوا تھا جس میں ہم نے نئی منصوبہ بندی سے کمی کرکے 10 ہزار میگاواٹ ختم کردیا۔

یہ بھی پڑھیے: نیٹ میٹرنگ کے بجائے گراس میٹرنگ سے سولر سسٹم کے صارفین کو کیا نقصان ہوگا؟

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بڑی تعداد میں سولرز آف گرڈز بھی لگے ہیں جو نیٹ میٹرنگ سسٹم سے باہر ہیں، لوگ بیٹری کے ذریعے سولر لگاتے ہین اور ٹیوب ویلز وغیرہ پر لگے ہیں، حکومت نے انہیں اس سے کبھی منع نہیں کیا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ آج ہمارا گرڈ 55 فیصد کلین انرجی پیدا کررہا ہے جو اس خطے میں اچھی کارکردگی ہے۔ یورپ میں جرمنی جیسے ممالک اب بھی فوسل فیولز پر دارومدار رکھتے ہیں مگر ہم ابھی سے 55 فیصد پر ہیں جو خوش آئند ہے، اگلے 8 سال میں 90 فیصد تک کلین انرجی پیدا کریں گے۔

اویس احمد لغاری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اس سال کے آغاز پر 55 ارب روپے کا پراجیکٹ شروع کیا جس کا مقصد بلوچستان میں ٹیوب ویلز کو گرڈ سے ہٹاکر شمسی توانائی پر منتقل کرنا ہے، سولرائزیشن کے اس پراجیکٹ کے تحت ابھی تک 6 ہزار ٹیوب ویلز آف گرڈ جاچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: حکومت کی نئی سولر پالیسی: عوام کے لیے کیا خاص ہے؟

واضح رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر اویس احمد خان لغاری کی جانب سے کہا گیا تھا کہ نئی سولر پینل پالیسی کی منظوری کے لیے جلد اقتصادی رابطہ کمیٹی کے سامنے ایک سمری پیش کرنے جا رہے ہیں۔ جس کے تحت سولر نیٹ میٹرنگ کے نئے صارفین سے بجلی ساڑھے 9 سے 10 روپے فی یونٹ کے ریٹ پر خریدی جائے گی۔

ان کی جانب سے مزید یہ بھی کہا گیا کہ حکومت اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے پہلے سے نصب چھتوں کے سولر پینلز کے معاہدوں کا احترام جاری رکھے گی اور ان سے بجلی 27 روپے فی یونٹ کے نرخ پر خریدتی رہے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خضدار: رشتے سے انکار پر خاندان کے 3 افراد قتل، اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے رپورٹ طلب کرلی

تین گنا قیمت، جعلی اور ایکسپائر اشیا، سلمیٰ بٹ کا موٹروے ریسٹ ایریاز پر موجود مارٹس کے خلاف سخت ایکشن

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی

پاکستان اور امریکا کا دہشتگردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ