حکومت VPN سروسز بلاک کر سکتی ہے؟

بدھ 19 مارچ 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کو 2 اضافی کمپنیوں سے درخواستیں موصول ہوئی ہیں جو VPN سروس فراہم کنندگان کے طور پر رجسٹریشن کے خواہاں ہیں۔ یہ درخواستیں ایسے وقت میں موصول ہوئی ہیں جب پی ٹی اے قبل 2 کمپنیوں کو لائسنس جاری کر چکا ہے۔پی ٹی اے یہ لائسنس ڈیٹا سروسز کے کلاس لائسنس کے تحت جاری کر رہا ہے۔

پی ٹی اے نے مئی تک 7 وی پی این سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو رجسٹر کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پی ٹی اے کی جانب سے رجسٹریشن کا عمل مکمل ہونے کے بعد حکومت مخصوص معیار کی بنیاد پر بعض VPNs کو بلاک کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستانی نیٹ ورکس کو وی پی این سے سیکیورٹی خطرات لاحق ہوگئے

اس وقت پاکستان میں تقریباً 40 وی پی این کام کر رہے ہیں۔ پی ٹی اے حکام کے مطابق کسی بھی وی پی این کو بلاک کرنے کا فیصلہ بالآخر وفاقی حکومت کے پاس ہوگا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ PTA فی الحال VPNs کی بندش کی حمایت نہیں کر سکتا۔

واضح رہے کہVPN سروس فراہم کرنے والوں کے لیے رجسٹریشن کا عمل دسمبر 2024 میں شروع ہوا۔ PTA سے لائسنس حاصل کرنے والی کمپنیوں کو ملک میں VPN سروسز فراہم کرنے کی قانونی مجاز ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

’ہم محنت کرتے ہیں تاکہ لوگ آنٹی نہ کہیں‘: نادیہ خان

پنجاب: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کا عمل تیز، 32 ہزار 588 افغان ڈی پورٹ

2025: 7,667 افراد ہجرت کے خطرناک راستوں پر چلتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر گئے، اقوام متحدہ

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟

روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان