لاس اینجلس میں آزاد خالصتان کے حق میں ریفرنڈم، 30 ہزار سکھوں نے ووٹ ڈال دیے

پیر 24 مارچ 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی پنجاب کو آزاد خالصتان ریاست بنانے کے حق میں امریکی شہر لاس اینجلس میں ووٹنگ کا انعقاد ہوا جس میں 30 ہزار سے زائد سکھوں نے ووٹ ڈالے۔

لاس اینجلس کے سیوک سنٹر میں منعقدہ اس ریفرنڈم میں امریکا بھر میں مقیم سکھ کمیونٹی نے بھارت سے علیحدگی اور بھارتی پنجاب میں آزاد خالصتان بنانے کے لیے ووٹ ڈالا۔

یہ بھی پڑھیے: نیوزی لینڈ میں خالصتان کے حق میں ریفرنڈم، سکھوں کے جوش و خروش پر بھارت چیخ اٹھا

اس موقع پر موجود سکھوں نے خالصتان کے جھنڈے لہراکر نعرے بھی لگائے۔

ووٹنگ کے اختتام پر ’سکھ فار جسٹس‘ کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے سکھوں سے آن لائن خطاب کرکے اگلا خالصتان ریفرنڈم 17 اگست کو واشنگٹن ڈی سی میں کرانے کا اعلان کیا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ سکھ مودی حکومت کی گولی کا جواب ووٹ سے دیں گے، ہزاروں کی تعداد میں ووٹ ڈال کر سکھ کمیونٹی نے اس بات کا واضح ثبوت دیا کہ وہ بھارت کے زیر تسلط نہیں رہنا چاہتے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی سکھوں کی تنظیم ’سکھ فار جسٹس‘ نے مختلف مغربی ممالک میں آزاد خالصتان کے حق میں ریفرنڈم کرائے ہیں  جس میں سکھوں نے بھارت سے آزادی اور اپنی آزاد ریاست کے لیے ووٹ ڈالے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

شادی کی تقریب میں جنرل (ر) باجوہ سے بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر کی ملاقات نے نئی بحث چھیڑ دی

خیبرپختونخوا پولیس کی تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر محکمہ خزانہ کو کیا اعتراضات ہیں؟

ویڈیو

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا