سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا اعلان، کیا بھارت یکطرفہ اقدام کا حق رکھتا ہے؟

بدھ 23 اپریل 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت نے بدھ کو یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کردیا جو بلاشبہ بھارت کی جارحیت اور انتہا پسندی کی نشاندہی کرتا ہے مگر یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر یہ معاہدہ معطل یا منسوخ نہیں کرسکتا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل اور پاکستان کے ساتھ سرحد بند کردی

سندھ طاس معاہدہ (انڈس واٹر ٹریٹی) بین الاقوامی سطح پر پالیسی اور ضمانت یافتہ معاہدہ ہے اگر بھارت یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل یا منسوخ کرتا ہے تو پھر ان تمام معاہدوں پر بھی سوالات اٹھائے جائیں گے جو دیگر ممالک کے ساتھ کیے گئے ہیں۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ سندھ طاس معاہدے کا ضامن عالمی بینک بھی ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ منسوخ یا معطل کرسکتا ہے؟ معاہدے کے تحت  بھارت از خود  اس معاہدے کو معطل یا منسوخ کرنے کی کوئی قانونی اہلیت نہیں رکھتا۔

معاہدے کا آرٹیکل 12(4) صرف اس صورت میں معاہدہ ختم کرنے کا حق دیتا ہے کہ جب بھارت  اور پاکستان دونوں تحریری طور پر راضی ہوں۔

دوسرے لفظوں میں سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے کے لیے دونوں ریاستوں کی طرف سے ایک برطرفی کے معاہدے کا مسودہ تیار کرنا ہوگا اور پھر دونوں کی طرف سے اس کی توثیق کرنی ہوگی۔ اس معاہدے میں یکطرفہ معطلی کی کوئی شق نہیں ہے۔ یہ ایک غیر معینہ مدت کا معاہدہ ہے اور اس کا مقصد کبھی بھی وقت کے ساتھ مخصوص یا واقعہ سے متعلق نہیں ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستانی عوام نے بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈا مسترد کردیا، ’انڈین فالس فلیگ آپریشن‘ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ

پاکستان اور بھارت دونوں ہی سندھ طاس معاہدے کے یکساں طور پر پابند ہیں۔ کسی معاہدے سے ہٹنا دراصل اس کی خلاف ورزی ہے۔ اگر بھارت یکطرفہ طور پر تنسیخ، معطلی یا واپس لینے وغیرہ جیسے جواز پیش کرکے معاہدے کی پیروی کرنا چھوڑ دیتا ہے تو اس کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ اس نے پاکستان میں پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں جسے بھارت منسوخ یا دستبرداری کہے گا، پاکستان اسے خلاف ورزی سے تعبیر کرے گا۔

سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہوگا اگر بھارت پاکستانی پانی کو نیچے کی طرف روکتا ہے اور کیا یہ چین کے لیے اوپر کی طرف کوئی مثال قائم کر سکتا ہے؟ اگر بھارت پاکستانی دریاؤں کا پانی روکنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ نہ صرف بین الاقوامی آبی قانون کی خلاف ورزی ہوگی بلکہ ایک خطرناک مثال بھی قائم کرے گا۔

بین الاقوامی قانون کے مطابق خواہ سندھ طاس جیسا معاہدہ ہو یا نہ ہو کوئی بھی بالائی ملک (جیسا کہ بھارت) کسی (ٹیل اینڈ والے) زیریں ملک (جیسے کہ پاکستان) کے پانی کو روکنے کا حق نہیں رکھتا

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کے عوام نے بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈا مسترد کر دیا، شدید نعرے بازی

اگر بھارت ایسا قدم اٹھاتا ہے تو یہ علاقائی سطح پر ایک نیا طرز عمل قائم کرے گا جو بین الاقوامی قانون میں ایک مثال کے طور پر استعمال ہوسکتا ہے۔ اس کا فائدہ چین اٹھا سکتا ہے جو دریائے برہمپترا کے پانی کو روکنے کے لیے اسی بھارتی طرز عمل کو بنیاد بنا سکتا ہے۔ اس طرح بھارت کا یہ قدم نہ صرف پاکستان کے لیے خطرناک ہوگا بلکہ خود بھارت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ چین جیسی طاقتیں اس صورتحال کو بغور دیکھ رہی ہوں گی۔

سندھ طاس معاہدہ، جو سنہ 1960 میں طے پایا اپنی نوعیت میں ایک مضبوط اور دیرپا معاہدہ ہے جس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ معطلی یا خاتمے کی شق شامل نہیں بلکہ اس میں ترمیم صرف دونوں فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ توثیق شدہ معاہدے کے ذریعے ہی ممکن ۔

یہ بھی پڑھیے: پہلگام حملہ: پاکستان کیخلاف بھارتی میڈیا کا شیطانی پروپیگنڈا بے نقاب

بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل کرنا نہ صرف اس کے طے شدہ طریقہ کار جیسے مستقل انڈس کمیشن، غیر جانبدار ماہرین یا ثالثی عدالت کے ذریعے تنازع کے حل کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ معاہدے کی روح کے بھی منافی ہے۔

یہ معاہدہ ماضی میں کئی جنگوں اور سیاسی کشیدگیوں کے باوجود قائم رہا ہے جو اس کی قانونی اور اخلاقی طاقت کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

11 سالہ امریکی لڑکے نے کینڈاما کھلونے کے ذریعے گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کردیا

’علم حاصل کرنے سے ہی عزت بڑھتی ہے‘، مریم نواز کا بھکر میں دانش اسکول کا افتتاح

نیشنل ایکشن پلان پر اتفاق رائے موجود، دہشتگردی کے معاملے پر سیاسی الزام تراشی بند ہونی چاہیے، طلال چوہدری

واٹس ایپ بدلنے جارہا ہے، صارفین کے لیے پریمیم فیچرز کا اعلان

واٹس ایپ بیٹا صارفین کے لیے نیا فیچر، چینل اپڈیٹس کی کارکردگی جانچنا آسان

ویڈیو

ریاض: پاکستان انٹرنیشنل اسکول میں سالانہ اسپورٹس گالا، نظم و ضبط اور ٹیم اسپرٹ کا بہترین مظاہرہ

لاہور میں ماں بیٹی کے مین ہول میں گرنے کا واقعہ، عوام کیا کہتے ہیں؟

وزیراعظم پاکستان سے آذربائیجان کے صدر کے خصوصی نمائندے کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں

وفاق اور گل پلازہ

’لڑکی لیزنگ پر لے لو‘