پنجاب بھر کے مجرمان کا ڈی این اے ڈیٹا بیس بنانے کا فیصلہ

اتوار 27 اپریل 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

محکمہ داخلہ پنجاب کے ترجمان مطابق پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی صوبہ بھر سے ڈی این اے ریکارڈ اکٹھا کرے گی، ڈی این اے ڈیٹابیس سنگین جرائم کے ملزمان کی بروقت شناخت میں مددگار ہوگا۔

صوبہ بھر کی جیلوں میں موجود قیدیوں سمیت تمام جرائم پیشہ افراد اور عادی مجرمان کا ڈی این اے بھی ڈیٹا بیس میں ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ فورینزک ڈی این اے لیبارٹری کا نیا اعزاز کیا ہے؟

سیکرٹری داخلہ نور الامین مینگل کی ہدایت پر ماہرین کا ورکنگ گروپ تشکیل دے دیا گیا ہے، جب کہ ڈائریکٹر جنرل فرانزک سائنس ایجنسی ڈاکٹر محمد امجد ورکنگ گروپ کے سربراہ مقرر کیے ہیں۔

نوٹیفیکیشن کا عکس

محکمہ داخلہ پنجاب کے ترجمان مطابق ماہرین کا ورکنگ گروپ مرکزی ڈی این اے ڈیٹابیس کے قیام کے لیے ماڈل تجویز کرے گا۔ ڈی این اے کا مرکزی ڈیٹا بیس نظام انصاف کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں معاون ہوگا۔

ڈائریکٹر CEMB پروفیسر ڈاکٹر معاذ الرحمان، ڈی آئی جی اطہر وحید اور ڈائریکٹر ایڈمن PFSA ولید بیگ ممبران ہوں گے۔

ورکنگ گروپ ایک ہفتے میں اپنی تجاویز سیکرٹری داخلہ کو پیش کرے گا

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد پولیس کا ڈاکوؤں کے خلاف بڑا آپریشن، فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ملزم گرفتار، 42 مقدمات میں مطلوب نکلا

’آبنائے ہرمز جلد کھل جائے گی‘،صدر ٹرمپ کا ایران سے امن معاہدے میں بڑی پیشرفت کا دعویٰ

بہاولپور: کھیتوں میں بکریاں جانے پر خاتون پر تشدد، ملزمان نے گھر نذرِ آتش کردیا

پاک ایران امریکا سفارت کاری رنگ لے آئی، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے اہم پیش رفت کی تصدیق کر دی

واشنگٹن لرز اٹھا: وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کرنے والا مسلح شخص سیکرٹ سروس کی جوابی کارروائی میں ہلاک

ویڈیو

عید الاضحیٰ: پشاور میں باربی کیو کی تیاریوں کے منفرد انداز

لگژری فارم ہاؤس! جہاں کروڑوں روپے مالیت کے قربانی کے بیل رہتے ہیں

عیدالاضحیٰ کے موقع پر کون سے سیاحتی مقامات سیر و تفریح کے لیے بہترین ہیں؟

کالم / تجزیہ

بدرالدین بدر، معروف ادیبوں کا ایک فراموش کردہ دوست

ڈونلڈ ٹرمپ کی قربانی

نریندر مودی صحافیوں سے کیوں خوفزدہ ہیں؟