ڈیڑھ کروڑ نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم تک رسائی اور جدید سہولیات فراہمی کی کوشش کر رہے ہیں، چیئرمین ایچ ای سی

جمعرات 3 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) ڈاکٹر مختار احمد نے کہا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی بجٹ کو کم سے کم 4 فیصد کرنے، نوجوانوں کو درست سمت دکھانے اور جدید تعلیم تک رسائی کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومتی ہدایت پر وژن 2047 پر کام کر رہے ہیں جس کے پہلے مرحلے میں پی۔10 پراجیکٹ کے تحت ٹاپ 10 جامعات کا انتخاب کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: ملک میں میڈیکل ایجوکیشن کے مسائل کے حل کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملکی جامعات میں 100 سمارٹ کلاس روم قائم کردیے گئے ہیں جبکہ 200 مزید سمارٹ کلاس رومز بنارہے ہیں۔

چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی بجٹ کو کم سے کم 4 فیصد کرنے، نوجوانوں کو درست سمت دکھانے اور جدید تعلیم تک رسائی کو بڑھانے کی ضرورت ہے، پی ایچ ڈی فیکلٹی ممبران کی تعداد 3 ہزار سے بڑھا کر 5 ہزار سالانہ کی جائے گی۔

ڈاکٹر مختار احمد کا کہنا تھاکہ تعلیمی حوالے سے پاکستان دنیا کا مقابلہ کرنے کو تیار ہے، انٹرنیشنل رینکنگ میں پاکستان کی 4 مزید جامعات دنیا کی ایک ہزار یونیورسٹیوں میں شامل ہوئی ہیں، ہمیں توقع ہے کہ اگلے 5 سال تک یہ کی 2 سوبہترین جامعات میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ اس وقت ایچ ای سی کے تحت 31 لاکھ سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں، ان میں اگر کالجز کی تعداد بھی شامل کریں تو 60 لاکھ طلبا بنتے ہیں، سالانہ ساڑھے 8 لاکھ گریجویٹس فارغ ہوتے ہیں، یہ تعداد کم ہے اس کے لیے اعلیٰ تعلیم تک رسائی کو بڑھانے پر کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: خیبر پختونخوا کی یونیورسٹیوں میں حروف تہجی کی ترتیب سے چانسلرز کی تعیناتی، لمحہ فکریہ ہے

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ڈیڑھ کروڑ نوجوان موجود ہیں، اتنی بڑی تعداد کو اعلیٰ تعلیم تک رسائی اور سہولیات دینا ہم سب کی ذمہ داری ہے، ہم نے تعلیمی سہولیات کو بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ پسماندہ علاقوں تک پہنچایا ہے تاکہ ملک کے ہر شہری کو یکساں تعلیمی مواقع مل سکیں۔اس وقت ملک میں صرف 28 فیصد فیکلٹی پی ایچ ڈی ہولڈر ہیں، جامعات میں پی ایچ ڈی فیکلٹی کو بڑھانے کے لیے کام کر ہے ہیں۔

ڈاکٹر مختار احمد کا کہنا تھاکہ ایچ ای سی کا ترقیاتی بجٹ کم ہوا ہے جو کہ سال 2018میں تقریباً 65 ارب تھا اس وقت وہ بمشکل 70 ارب تک پہنچا ہے۔ ترقیاتی بجٹ میں کمی سے ہمارے جاری منصوبہ رکنے کا خدشہ ہے، تعلیمی بجٹ کو کم سے کم  4 فیصد تک لانا ہوگا جس کا او آئی سی کے رکن ممالک نے وعدہ بھی کر رکھا ہے تاہم بدقسمتی سے یہ بجٹ 1.9 فیصد سے بھی کم ہے، اعلیٰ تعلیمی بجٹ کو کم سے کم 4 فیصد کرنے کے لیے کوشش کرہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا کراچی کو صوبہ بنا دینا چاہیے؟ شہر قائد کے باسیوں نے کھل کر رائے کا اظہار کردیا

پاسنگ مارکس کی شرح مقرر، رٹہ سسٹم کا خاتمہ، تعلیمی بورڈز کے اہم فیصلے سامنے آ گئے

سندھ طاس معاہدے پر پاکستانی مؤقف کی عالمی سطح پر پذیرائی، کوئٹہ کے شہری کیا کہتے ہیں؟

بلوچستان میں امن ، عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی ریاست کی ترجیحات کا محور ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

آئی سی سی کا پاکستان اور بھارت کے درمیان سہ فریقی یا فور نیشن سیریز کرانے پر غور شروع

ویڈیو

کیا کراچی کو صوبہ بنا دینا چاہیے؟ شہر قائد کے باسیوں نے کھل کر رائے کا اظہار کردیا

سندھ طاس معاہدے پر پاکستانی مؤقف کی عالمی سطح پر پذیرائی، کوئٹہ کے شہری کیا کہتے ہیں؟

نئے انتظامی یونٹس بنانے یا نہ بنانے کا فیصلہ کسی حکومت یا جماعت نہیں، عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے، محسن نقوی

کالم / تجزیہ

اُچ شریف کے آثار اور یادیں

مسلم سائنس کا قتل اور ملزم امام غزالی

وہ خط جو کبھی پوسٹ نہیں کیا گیا