یونیورسٹی آف لندن کا جسٹس عائشہ ملک کو خراج تحسین، اعزازی ڈگری سے نوازدیا

منگل 29 اپریل 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ آف پاکستان کی پہلی خاتون جج جسٹس عائشہ ملک کو یونیورسٹی آف لندن نے قانون میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کسٹم ایکٹ کے سیکشن 221 اے کی آئینی حیثیت، جسٹس عائشہ ملک کی سماعت سے معذرت

چانسلر یونیورسٹی آف لندن کی جانب سے قانون میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری جسٹس عائشہ ملک کو پاکستان میں قانون کے شعبے میں خدمات اور کامیابیوں اور پاکستان کی سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جسٹس بننے کی بنیاد پر دی گئی ہے۔

 https://Twitter.com/WomenInLawPk/status/1916932159811580123

یونیورسٹی آف لندن میں گزشتہ روز منعقدہ ایک تقریب میں یونیورسٹی آف لندن کی وائس چانسلر وینڈی تھامسن، ڈین انڈرگریجویٹ لاز پیٹریشیا میک کیلر اور ریجنل ہیڈ ساؤتھ ایشیا سعد وسیم نے بھی شرکت کی۔

سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج جسٹس عائشہ ملک نے ہارورڈ یونیورسٹی سے ایل ایل ایم کیا تھا، انہوں نے 28 سال سے زائد عرصے تک قانون کے شعبے میں کام کیا ہے اور اپنے بہترین فیصلوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔

مزید پڑھیں:جسٹس عائشہ ملک آئندہ ہفتے آئینی بینچ کا حصہ نہیں ہوں گی

جسٹس عائشہ ملک 2012 میں لاہور ہائیکورٹ کی جج بنیں اور 2022 میں انہیں سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جسٹس بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ: پاکستان نے ملائیشیا کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیت لیا

کالعدم ایکشن کمیٹی کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی راہ پر گامزن، حقیقت کھل کر سامنے آگئی

ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

غزہ جنگ بندی: حماس کے قاہرہ میں اہم مذاکرات شروع، دوسرے مرحلے پر مشاورت جاری

ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات پورے کردیے، سڑکوں پر آنا مسائل کا حل نہیں، طارق فضل چوہدری

ویڈیو

گلگت بلتستان میں کس کی حکومت بن رہی ہے؟ آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کو سخت پیغام

گلگت بلتستان میں حکومت کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم؟ الیکشن کون جیت رہا ہے؟

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ناگزیر قرار، اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے