شیری رحمان کا ترقی پذیر ممالک کے لیے عالمی برادری سے اہم مطالبہ

منگل 2 مئی 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے جرمنی میں ہونے والے پیٹرزبرگ کلائمیٹ ڈائیلاگ میں شرکت کی ہے۔

وفاقی وزیر مملکت شیری رحمان نے عالمی برادری پر بین الاقوامی مالیاتی نظام کی تنظیم نو پر زور دیا ہے۔

اپنے خطاب میں شیری رحمان نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے کلائمیٹ فنڈ کو مزید قابل رسائی بنایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو اپنے ماحولیاتی اہداف کو پورا کرنے کے لیے ضروری کلائمیٹ فنڈز کے حصول میں چیلنج کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یونائیٹڈ نیشنز فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے مطابق 78 ترقی پذیر ممالک کو پیرس معاہدے کے تحت اپنی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 2030 تک 6 ٹریلین ڈالر کی ضرورت ہے۔

شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک کو 2022 میں 52 فیصد کلائمیٹ فنانس جب کہ ترقی پذیر ممالک کو صرف 48 فیصد وصول ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ تشویشناک بات ہے کہ ترقی پذیر ممالک بشمول پاکستان کی عالمی ماحولیاتی فائنانس تک محدود رسائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلی کے چیلینجز سے نمٹنے کے لیے 2030 تک 348 بلین ڈالرز کی ضرورت ہے جو ہماری مجموعی جی ڈی پی کا 10.7 فیصد ہے۔

شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ترقی پذیر ممالک کو اپنے ماحولیات کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے فنڈز تک رسائی چاہیے۔ بین الاقوامی مالیاتی ڈھانچے کی تشکیل نو کی جانی چاہیے تاکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے کلائمیٹ فائنانس کو قابل رسائی بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کاپ 28 سے پہلے حال ہی میں بنائے گئے لاس اینڈ ڈیمیجز فنڈ سے متعلق اہم سوالات کو حل کرنا چاہیے اور عالمی مالیاتی ڈھانچے میں فنڈنگ کے فرق کو ختم کرنا چاہیے۔

شیری رحمان کا کہنا تھا کہ کاپ 28 کے لیے ایک واضح خاکہ پیش کیا جائے جس کا مرکزی ایجنڈا کلائمیٹ فائنانس اور ایڈاپٹیشن ہونا چاہیے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ عالمی برادری کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ پائیدار مستقبل کو یقینی بنانے اور ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان: سورینج کوئلہ کان 34 خاندانوں کے چراغ گل کرچکی، 2 مزدوروں کی تلاش جاری

پی سی بی کا نیا ورک لوڈ سسٹم فاسٹ بولرز کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، نسیم شاہ

یوکرین جنگ کے بعد خلا میں عسکری سرگرمیوں پر عالمی خدشات بڑھ گئے

شہزادہ چارلس اور شہزادی ڈیانا کے ہنی مون کی تلخ یادیں سامنے آگئیں

بھارت کا اسرائیل کو فراہم کردہ اسلحہ غزہ جنگ میں استعمال ہو رہا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

ویڈیو

لائیوبلوچستان میں ترقی روکنے کے لیے دہشتگردی کی جاتی ہے، احساسِ محرومی اور نمائندگی کا بیانیہ حقائق کے منافی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘