کراچی کو سمندری طوفان کا خطرہ؟ محکمہ موسمیات نے بتادیا

جمعرات 22 مئی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی میں جاری شدید گرمی کی لہر میں کمی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا اور ایسے میں شہر کے سمندری طوفان کی زد پہ آنے کے خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں شدید گرمی کا سلسلہ جاری ہے، شہر کا درجہ حرارت جمعرات کے روز 33 سینٹی گریڈ تھا جس میں آئندہ روز تک اضافے کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں گرمی، ‏وکیلوں نے کالا کوٹ پہننے سے استثنیٰ مانگ لیا

محکمہ موسمیات نے مشرقی وسطی بحیرہ عرب میں کم دباؤ کے نظام کی اطلاع دی جو کراچی سے تقریباً 1,075 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے، جب یہ شمال کی طرف بڑھتا ہے تو یہ نظام ڈپریشن میں شدت اختیار کر سکتا ہے۔

تاہم محکمہ موسمیات نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے ساحلی علاقوں کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے، سائیکلون وارننگ سینٹر صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں عیدالاضحیٰ 2025 کب ہوگی؟ سپارکو نے پیشگوئی کردی

بحیرہ عرب میں ہوا کے کم دباؤکے اثرات کراچی پر ہوں گے، جس سے آنے والے دنوں میں گرمی میں اضافے کا امکان ہے، تازہ ترین صورتحال کے مطابق ہوا کا کم دباؤ بھارتی صوبے گجرات کی طرف بڑھنے کے امکانات ہیں، جس کی صورتحال کا وقت کے ساتھ ساتھ پتہ چلتا رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش، ہوشربا انکشافات، ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش

’وہ اپنا ذہنی توازن کھو رہے ہیں‘، جھیل کا نام تبدیلی کرنے کے فیصلے پر امریکیوں کی ٹرمپ پر تنقید

عمران خان کے بچوں کی طرح غزہ کے قیدیوں کے بچوں کو بھی بولنے کا موقع دیں، خواجہ آصف کا اسکائی نیوز کو جواب

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی چینی سرمایہ کاروں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت

ویڈیو

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں