چلاس کے پہاڑوں میں دریائی مٹی سے سونا چننے والا قبیلہ

جمعرات 19 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چلاس کے سنگلاخ پہاڑوں اور شور مچاتے دریاؤں کے درمیان آباد ایک قبیلہ نسلوں سے ایک ہی خواب کی تعبیر پانے میں جُتا ہوا ہے، سونا۔ اس کا نام ہے ’سونا وال قبیلہ‘ اور اس کی زندگی دریا کی ریت میں چھپے سونے کے ذروں سے جُڑی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اٹک میں سونے کے ذخائر کی نیلامی جلد، 2 مزید مقامات پر ذخائر ملے ہیں، وزیر معدنیات پنجاب

محمد آخمان، محمد رحمان اور مقصود عالم جیسے کئی نوجوان روزانہ صبح سویرے اٹھتے ہیں اور اپنے دیسی ساختہ اوزار اٹھا کر دریا کے کنارے پہنچ جاتے ہیں۔

وہ نرم ہاتھوں سے مٹی کھودتے ہیں پھر اس کو پانی سے دھوتے ہیں اور بڑے صبر کے ساتھ اس میں سے حسب قسمت سونا کھوج نکالتے ہیں۔ یہ کام نہ صرف مشقت بھرا ہے بلکہ مکمل طور پر قسمت کا کھیل بھی ہے۔

مزید پڑھیے: کشمیر کے دریاؤں میں پائی جانیوالی قیمتی معدنیات

کبھی دن بھر کی محنت کے بعد 5 ہزار روپے ملتے ہیں تو کبھی اچانک ایک لاکھ روپے تک کی کمائی بھی ہو جاتی ہے۔ مگر عمومی طور پر روزانہ کی آمدنی 10 سے 15 ہزار روپے کے درمیان ہوتی ہے۔ مزید تفصیل جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈیجیٹل اثاثے پاکستان کی معیشت، برآمدات اور اسلامی فنانس کے لیے گیم چینجر بن سکتے ہیں، وزیر مملکت بلال ثاقب کی میڈیا سے گفتگو

دل کے دورے کے خطرے میں کولیسٹرول کی سطح میں تبدیلی ٹرائی گلیسرائیڈز سے زیادہ اہم قرار

پاکستان کی موجودہ ٹیسٹ ٹیم گزشتہ 50 برس کی بدترین ٹیم قرار؟

موبائل فون کا جھگڑا خاندان کو لے ڈوبا، نوجوان کو بچاتے والدین بھی پہاڑی سے گر کر ہلاک، ویڈیو وائرل

کینیڈا میں گوردوارے پر حملہ، مذہبی پیشوا سمیت 2 افراد زخمی، ملزم گرفتار

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘