غزہ میں اسرائیلی حملے، مزید 72 فلسطینی شہید، کھانے کے منتظر شہری بھی نشانہ بنے

پیر 30 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 اسرائیلی فوج کے تازہ فضائی حملوں میں 72 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں متعدد وہ افراد بھی شامل ہیں جو کھانے اور امداد کے حصول کے لیے قطاروں میں کھڑے تھے۔ غزہ کی پہلے سے تباہ حال انسانی صورتحال مزید ابتر ہو گئی ہے۔

معروف ٹیلی ویژن چینل ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق، اتوار کو علی الصبح سے غزہ کے مختلف علاقوں پر اسرائیلی حملے کیے گئے، جن میں غزہ شہر اور شمالی علاقوں میں 47 افراد شہید ہوئے۔ الزیتون، الصبرہ اور الزاویہ مارکیٹ کے رہائشی علاقوں کو شدید نشانہ بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیے غزہ میں ایک ہفتے کے اندر جنگ بندی متوقع ہے،ٹرمپ کا دعویٰ

الجزیرہ کے نمائندے معاذ الکحلوت نے الاہلی اسپتال سے رپورٹ دیتے ہوئے بتایا کہ اسپتال زخمیوں سے بھر گیا ہے، بچوں سمیت درجنوں زخمی زمین پر لیٹے ہیں کیونکہ بیڈز اور طبی سہولیات دستیاب نہیں۔

غذائی امداد کے مراکز پر فائرنگ، 580 سے زائد ہلاکتیں

شہداء میں کم از کم 5 افراد وہ بھی شامل ہیں جو جنوبی غزہ کے رفح میں قائم متنازعہ غزہ ہیومنیٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) کے خوراک تقسیم مراکز کے قریب موجود تھے۔

غزہ میڈیا آفس کے مطابق، مئی کے آخر میں GHF کے امریکی و اسرائیلی حمایت یافتہ انتظام کے تحت امداد کی محدود تقسیم کے بعد سے، ان مراکز کے قریب 580 سے زائد فلسطینی شہید اور 4,000 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی اخبار ہارٹز نے نامعلوم اسرائیلی فوجیوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ انہیں بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے غیر مسلح شہریوں پر فائرنگ کے احکامات دیے گئے۔

بین الاقوامی مذمت اور قانونی سوالات

بین الاقوامی انسانی حقوق کے وکیل جیوفری نائس نے اپنی گفتگو میں کہا ’ یہ انتہائی ناقابلِ فہم بات ہے کہ ایک تنظیم جو امداد فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے، اس کے ساتھ کام کرنے والے لوگ ہی سینکڑوں افراد کو گولی مار کر ہلاک کر رہے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے اسرائیل اور امریکا کے درمیان 2 ہفتوں میں غزہ جنگ کے خاتمے پر اتفاق، اسرائیلی اخبار کا دعویٰ

جیوفری نائس سابقہ یوگوسلاویہ کے خلاف قائم بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

مزید خطرات: پمفلٹس کے بعد بمباری

اسرائیلی فوج مشرقی غزہ شہر میں پمفلٹس گرا رہی ہے جن میں شہریوں کو جنوب منتقل ہونے کی ہدایت دی جا رہی ہے، تاہم اکثر ان ہدایات کے بعد شدید بمباری دیکھنے میں آتی ہے، جس سے شہری ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بین الاقوامی برادری پر دباؤ

ان واقعات کے بعد دنیا بھر سے جنگ بندی اور آزادانہ تحقیقات کے مطالبات میں تیزی آئی ہے، جب کہ امریکی قیادت اسرائیلی حکومت سے ممکنہ جنگ بندی پر بات چیت کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا