دہشتگردی علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے، پاکستان اور افغانستان کا اتفاق

منگل 8 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایڈیشنل سیکریٹری سطح پر مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوگیا، جس میں دونوں فریقین نے دہشتگردی کو علاقائی امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ بات چیت نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے 19 اپریل کو کابل کے دورے کے دوران کیے گئے فیصلوں کی روشنی میں عمل میں آئی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟

پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکرٹری برائے افغانستان و مغربی ایشیا سید علی اسد گیلانی نے کی، جبکہ افغان وفد کی قیادت افغان وزارت خارجہ کے پولیٹیکل ڈویژن کے ڈائریکٹر مفتی نور احمد نور نے کی۔ مذاکرات کے دوران دو طرفہ دلچسپی کے اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس میں تجارت، ٹرانزٹ تعاون، سیکیورٹی اور علاقائی روابط جیسے امور زیر بحث آئے۔ دونوں فریقین نے دہشتگردی کو علاقائی امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا۔

پاکستان نے افغان سرزمین پر سرگرم دہشتگرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور مؤثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق ایسے عناصر نہ صرف پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ پورے خطے کی ترقی میں رکاوٹ بھی بنے ہوئے ہیں۔

مذاکرات میں تجارتی اور ٹرانزٹ تعاون کو مزید مستحکم بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستانی وفد نے کابل کے دورے کے دوران کیے گئے وعدوں اور اقدامات پر عملدرآمد کی پیشرفت سے افغان حکام کو آگاہ کیا۔ ان اقدامات میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کو فعال کرنے جیسے اہم پہلو شامل تھے۔

دونوں فریقین نے پائیدار ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے لیے علاقائی روابط کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ ازبکستان، افغانستان، پاکستان ریلوے منصوبے کی تزویراتی اہمیت کو بھی تسلیم کیا گیا۔ فریقین نے اس منصوبے کے لیے فریم ورک معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔ مذاکرات کے دوران افغان شہریوں کی وطن واپسی سے متعلق امور پر بھی گفتگو کی گئی۔

ترجمان کے مطابق جنوری 2024 سے اب تک مختلف کیٹیگریز میں 5 لاکھ سے زیادہ ویزے جاری کیے جا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان نے پاکستان میں ناظم الامور کو سفیر کا درجہ دینے کا اعلان کردیا

آخر میں دونوں ممالک نے قانونی اور منظم آمدورفت کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل روابط اور گفت و شنید کی اہمیت پر اتفاق کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

’ہم محنت کرتے ہیں تاکہ لوگ آنٹی نہ کہیں‘: نادیہ خان

پنجاب: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کا عمل تیز، 32 ہزار 588 افغان ڈی پورٹ

2025: 7,667 افراد ہجرت کے خطرناک راستوں پر چلتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر گئے، اقوام متحدہ

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟

روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان