اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں حملے کے نتیجے میں 5 فوجیوں کی ہلاکت اور 14 دیگر کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے، جن میں 2 فوجیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ یہ حملہ غزہ کی شمالی حدود کے قریب بیت حانون میں ہوا، جو اکتوبر 2023 سے اسرائیلی فوجی قبضے میں ہے۔
اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں پر پہلا حملہ کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کی مدد کے لیے پہنچنے والی فوجی یونٹ پر بھی حملہ کیا گیا۔ مزید یہ کہ ایک تیسری فوجی یونٹ نے زخمیوں کو نکالنے کی کوشش کی، لیکن اس پر بھی حملہ کیا گیا، جس سے یہ حملہ ایک پیچیدہ نوعیت کا بن گیا۔
مزید پڑھیں: غزہ میں حماس نے 4 اسرائیلی فوجی ہلاک کردیے
اس حملے کے بعد اسرائیلی سیاستدانوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ فوج اس وقت غزہ میں اس لیے نہیں ہے کہ وہ اسرائیل کی حفاظت کرے، بلکہ وہ وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی حکومت کی حفاظت کے لیے لڑ رہی ہے۔
حماس کا حملے کا خیرمقدم، فوج کے لیے مزید نقصان کا انتباہ
حماس کے عسکری ونگ ’القسام بریگیڈز‘ کے ترجمان ابو عبیدہ نے اس حملے کو اسرائیلی فوج کے لیے ایک اور شدید ضرب قرار دیا۔
انہوں نے کہا ’یہ حملہ اسرائیلی فوج کے لیے ایک اور دھچکا ہے، کیونکہ یہ حملے ایک ایسے علاقے میں ہوئے ہیں جنہیں وہ اپنے لیے محفوظ سمجھتے تھے‘۔
یہ بھی پڑھیے غزہ، حماس کے حملوں میں 48 گھنٹوں میں 13 اسرائیلی فوجی ہلاک
ابو عبیدہ نے مزید کہا ’ہماری مزاحمتی جنگ غزہ کے شمال سے جنوب تک جاری رہے گی، اور اسرائیل کو ہر روز مزید نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہم مزید اسرائیلی فوجیوں کو قید کر سکتے ہیں‘۔
القسام بریگیڈز کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ غزہ کے مزاحمتی جنگجو اور فلسطینی عوام ہی اس خطے کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ انہوں نے نیتن یاہو کی حکومت کو خبردار کیا کہ اگر اسرائیلی فوج غزہ میں رہنے کا فیصلہ کرتی ہے تو یہ سب سے احمقانہ فیصلہ ہوگا‘۔













