روس کے نئے غیر جوہری دفاعی ہتھیار نے پوری دنیا کو چونکا دیا

بدھ 9 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

روس نے جوہری ہتھیاروں کے بغیر اپنے دفاعی و اسٹرٹیجک مقاصد حاصل کرنے کے لیے ایک نیا ہتھیار متعارف کرایا ہے، جس کا نام ’اوَرِشْنِک‘ ہے۔ اس نئے بیلسٹک میزائل کی آزمائش اور اس کے پچھلے سال یوکرین کے یوژمیش دفاعی مرکز پر حملے نے دنیا کو چونکا دیا، جب اس نے کم وقت میں بڑی تیزی سے دفاعی سسٹمز کی دنیا میں اپنی جگہ بنا لی۔

اوَرِشْنِک: ایک نئی قسم کا بیلسٹک میزائل

اوَرِشْنِک ایک انتہائی تیز رفتار، ہائپرسونک بیلسٹک میزائل ہے، جو مشینری کی دنیا میں ایک نئی نوع کا نمائندہ ہے۔ اس کا اسپید میک 10 سے بھی زیادہ ہے، اور اس کے وار ہیڈس 4,000C تک کے درجہ حرارت کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے روسی صدر ولادی میر پیوٹن اپنے مخالفین کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں؟

اس کا ڈیزائن خاص طور پر اُس کے نشانے کی اندرونی تباہی بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے، جو مضبوط فوجی انفراسٹرکچر، جیسے کہ کمانڈ بنکروں اور میزائل سیلوں کو متاثر کرنے کے لیے اہم ہے۔

کینیک فورس اور تیز رفتار

اوَرِشْنِک کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی ہائپرسونک رفتار ہے۔ روایتی بیلسٹک میزائلز کی طرح اس کا وار ہیڈ اترنے کے دوران آہستہ نہیں ہوتا، بلکہ اوَرِشْنِک اپنے ہائپرسونک اسپیڈ کو آخر تک برقرار رکھتا ہے، جو اس کی طاقت کو اور بھی بڑھا دیتا ہے۔ اس کا اثر کسی بڑی ایٹمی دھماکے کے بغیر ممکن ہے، جو اسے روایتی جوہری ہتھیاروں سے بالکل مختلف بناتا ہے۔

اوَرِشْنِک کی تخلیق اور تاریخ

اوَرِشْنِک کی تخلیق کی جڑیں سرد جنگ کے دوران ماسکو انسٹی ٹیوٹ آف تھرمل ٹیکنالوجی (MITT) میں پیوست ہیں۔ MITT نے روس کے سب سے پیچیدہ اور جدید اسٹریٹجک بیلسٹک میزائل سسٹمز کی تخلیق کی ہے، جن میں ٹاپول اور یارس میزائل شامل ہیں۔ اوَرِشْنِک کا ڈیزائن RS-26 روبیج کے مشابہ ہے، جو ایک موبائل آئی سی بی ایم تھا، جس پر 2011 سے 2015 تک تجربات کیے گئے۔

روس کا نیا دفاعی ڈاکٹرائن

اوَرِشْنِک نہ صرف ایک تیز، طاقتور بیلسٹک میزائل ہے، بلکہ یہ ایک نئی ’غیر جوہری اسٹرٹیجک دفاعی ڈاکٹرائن‘ کو بھی متعارف کرتا ہے۔ جوہری ہتھیاروں کے بجائے، روس اس سسٹم کے ذریعے عالمی سطح پر متنازعہ ہونے کے بغیر اپنے اسٹرٹیجک مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس میں تیز رفتار، درستگی، اور بیلسٹک ہتھیاروں کے روایتی نمونوں سے بڑھ کر نئی تکنیکیں شامل ہیں۔

مستقبل کی حکمت عملی، بیلاروس میں ڈیپلائمنٹ

روسی صدر ولادیمر پیوٹن نے جولائی 2025 میں یہ اعلان کیا کہ اوَرِشْنِک میزائل سسٹم کے پہلے یونٹس بیلاروس میں 2025 کے آخر تک نصب کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے ’مغرب کے ساتھ یک طرفہ کھیل ختم‘، پیوٹن کا اعلان

یہ ایک اہم فوجی قدم ہے جس کا مقصد یورپ کے وسیع علاقے تک رسائی حاصل کرنا ہے، کیونکہ اوَرِشْنِک کی رینج 800 کلومیٹر سے 5,500 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے۔

اوَرِشْنِک کا عالمی سطح پر اثر

اوَرِشْنِک کی کامیابی کے ساتھ ہی، روس نے غیر جوہری دفاعی ہتھیاروں کے استعمال کا نیا دور شروع کیا ہے۔ یہ ہتھیار نیوکلیئر ہتھیاروں کے استعمال کی ضرورت کے بغیر میدان جنگ یا سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے ایک موثر ذریعہ بن سکتا ہے۔

یورپ میں اس کی تنصیب روس کے لیے ایک نیا اثاثہ ثابت ہو سکتی ہے، جو روایتی میزائل سسٹمز کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور پیچیدہ ہو گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

طیارے کے واش روم میں خرابی، پرواز دو بار ڈائیورٹ، مسافروں کا انوکھا سفر

ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی شاندار تقریب، ندیم لونے والا کے سروں پر شائقین جھوم اٹھے، محسن نقوی بھی شریک

خضدار کے پہاڑی سلسلے میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، فتنہ الہندوستان کے 10 دہشتگرد ہلاک، متعدد زخمی

پاکستان کا 79واں یومِ آزادی، صوفی سٹی منڈی بہاؤ الدین میں عظیم الشان تقریب

وسیم اکرم کے بعد شاہد آفریدی کا کتا بھی لاپتا، مداحوں سے تلاش میں مدد کی اپیل

ویڈیو

آزاد کشمیر میں موجودہ صورتحال تشویشناک ہے، ماضی کی حکومتوں نے ذمہ داری نہیں نبھائی، نواز شریف

آبنائے ہرمز پر ایران کا قبضہ برقرار، عوام مہنگے پیٹرول کے لیے تیار ہوجائیں، صدر ٹرمپ کا امریکیوں کو پیغام

ایٹمی پلانٹ بچانے کی انوکھی تدبیر، ہنگری کا ندی میں 2 بڑے بحری جہاز ڈبونے کا فیصلہ

کالم / تجزیہ

چربیلی آگ پر چل کر سچائی ثابت کرنا

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں

سن 47، 1200 پاکستانی اور ایک چابی