پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں کے ترجمانوں کے درمیان آڈٹ رپورٹس پر الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے پنجاب حکومت پر 10 کھرب روپے کی بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا، وہیں پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے سیاسی مستقبل کو ’نیکسٹ اسٹاپ اڈیالہ‘ قرار دیا ہے۔
بیرسٹر سیف نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ پنجاب حکومت اب تک 10 کھرب روپے کی بے ضابطگیوں کا جواب دینے سے قاصر ہے، جو مریم نواز اور شریف خاندان کی مبینہ کرپشن کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ شریف خاندان عوام کا پیسہ لوٹ کر بیرون ملک منتقل کر رہا ہے اور ترقیاتی منصوبے صرف کمیشن کے لیے شروع کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ٹک ٹاک پر جھوٹے دعوے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔‘
مزید پڑھیں: دریائے سوات حادثہ: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری خیبرپختونخوا حکومت پر شدید برہم
اس پر ردعمل دیتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے بیرسٹر سیف کے الزامات کو جھوٹ اور سیاسی منافقت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جس آڈٹ رپورٹ کا واویلا کیا جا رہا ہے وہ دراصل عثمان بزدار اور پرویز الٰہی کے دور حکومت کی رپورٹ ہے۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ صفحہ 87 اور 96 پڑھیں، شاید تھوڑی شرم آجائے۔ گندم سبسڈی اور خریداری سے متعلق معاملات 2018 سے 2023 کے درمیان کے ہیں، جب پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت تھی۔
عظمیٰ بخاری نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ 12 سال سے پی ٹی آئی حکومت نے جو لوٹ مار کی، وہ سب کے سامنے ہے۔ آپ کا لیڈر بغضِ شریف میں وزیراعظم ہاؤس سے سیدھا اڈیالہ جا پہنچا، اب علی امین اور بیرسٹر سیف کا نیکسٹ اسٹاپ بھی وہی لگ رہا ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جعلی افواہوں اور پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں، پی ٹی آئی کے رہنما اپنے گریبان میں جھانکیں، پنجاب حکومت الزامات کی نہیں کارکردگی کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہے۔














