ایران امریکا سے جوہری مذاکرات کے لیے تیار، بڑی شرط رکھ دی

اتوار 13 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے مستقبل پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم یہ عمل صرف اس صورت میں شروع ہو سکتا ہے جب امریکا مضبوط ضمانت فراہم کرے کہ ایران پر مزید کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح طور پر کہاکہ تہران امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کو تیار ہے، لیکن اس کے لیے ایک شرط ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا جوہری مذاکرات منسوخ، عمان نے تصدیق کردی

وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق ایران اس وقت ہی دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئے گا جب امریکا یہ وعدہ کرے گا کہ خلیجی ملک پر مزید حملے نہیں کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ یہ یقین دہانی فراہم کی جانی چاہیے کہ اگر مذاکرات دوبارہ شروع ہوتے ہیں تو یہ عمل جنگ کی طرف نہیں جائے گا۔

عباس عراقچی نے امریکا کی جانب سے ایران کی نطنز، فردو اور اصفہان میں واقع جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ یہ ضمانت ہونی چاہیے کہ اس نوعیت کے اقدامات دوبارہ نہیں دہرائے جائیں گے۔ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے نے مذاکرات کے ذریعے حل کے حصول کو مزید مشکل اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی طرف اشارہ کیا تھا۔ اور یومِ آزادی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ نے گزشتہ ماہ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایا تھا کہ امریکا نے تاحال اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی کہ وہ دوبارہ تہران پر حملہ نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے ابھی تک کسی تاریخ پر اتفاق نہیں کیا ہے، نہ ہی کسی طریقہ کار پر۔ اس وقت ہم اس سوال کا جواب تلاش کررہے ہیں کہ آیا مذاکرات کے دوران ایک بار پھر جارحیت کا عمل دہرایا جائے گا یا نہیں؟ انہوں نے مزید کہاکہ امریکا نے اپنے مؤقف کو اب تک واضح نہیں کیا۔

جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد ایران نے اقوام متحدہ کی جوہری نگرانی کی ایجنسی آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کردیا تھا، تاہم ایران نے کہا ہے کہ وہ ایجنسی کی جائزہ لینے کی درخواستوں پر ہر معاملے کی بنیاد پر تعاون کرےگا۔

ان کشیدہ حالات کے دوران اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران پر ایک بار پھر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے اور اس بار زیادہ طاقت سے حملہ کیا جائے گا۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس انتباہ کی بازگشت ہے جو انہوں نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد جاری کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کی جوہری مذاکرات میں واپسی امریکا کے دوبارہ حملہ نہ کرنے سے مشروط

تاہم ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ تہران صیہونی حکومت کے خلاف اپنا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

گورنر سندھ نہال ہاشمی مزار قائد پر کسی اور سے تاثرات قلمبند کراتے رہے، ویڈیو وائرل

پاک بنگلہ دیش سیریز: سلمان آغا کا متنازع رن آؤٹ، اسپورٹس مین اسپرٹ کی بحث چھڑ گئی

ایم کیو ایم کی طاقت عوام ہیں، خالد مقبول کا حکومت کے ساتھ اعتماد میں کمی کا اعتراف

وزیراعظم طارق رحمان کا بنگلہ دیش میں بین المذاہب ہم آہنگی کی ضرورت پر زور

شمالی کوریا نے 10 سے زیادہ بیلسٹک میزائل سمندر میں داغ دیے

ویڈیو

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

ایران کا سپریم لیڈر کیسے منتخب ہوتا ہے، اس کے پاس کیا اختیار ہوتا ہے؟، امریکا و اسرائیل کو بڑا دھچکا

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے