ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے مستقبل پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم یہ عمل صرف اس صورت میں شروع ہو سکتا ہے جب امریکا مضبوط ضمانت فراہم کرے کہ ایران پر مزید کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح طور پر کہاکہ تہران امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کو تیار ہے، لیکن اس کے لیے ایک شرط ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا جوہری مذاکرات منسوخ، عمان نے تصدیق کردی
وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق ایران اس وقت ہی دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئے گا جب امریکا یہ وعدہ کرے گا کہ خلیجی ملک پر مزید حملے نہیں کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہاکہ یہ یقین دہانی فراہم کی جانی چاہیے کہ اگر مذاکرات دوبارہ شروع ہوتے ہیں تو یہ عمل جنگ کی طرف نہیں جائے گا۔
عباس عراقچی نے امریکا کی جانب سے ایران کی نطنز، فردو اور اصفہان میں واقع جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ یہ ضمانت ہونی چاہیے کہ اس نوعیت کے اقدامات دوبارہ نہیں دہرائے جائیں گے۔ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے نے مذاکرات کے ذریعے حل کے حصول کو مزید مشکل اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔
گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی طرف اشارہ کیا تھا۔ اور یومِ آزادی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ نے گزشتہ ماہ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایا تھا کہ امریکا نے تاحال اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی کہ وہ دوبارہ تہران پر حملہ نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہاکہ ہم نے ابھی تک کسی تاریخ پر اتفاق نہیں کیا ہے، نہ ہی کسی طریقہ کار پر۔ اس وقت ہم اس سوال کا جواب تلاش کررہے ہیں کہ آیا مذاکرات کے دوران ایک بار پھر جارحیت کا عمل دہرایا جائے گا یا نہیں؟ انہوں نے مزید کہاکہ امریکا نے اپنے مؤقف کو اب تک واضح نہیں کیا۔
جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد ایران نے اقوام متحدہ کی جوہری نگرانی کی ایجنسی آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کردیا تھا، تاہم ایران نے کہا ہے کہ وہ ایجنسی کی جائزہ لینے کی درخواستوں پر ہر معاملے کی بنیاد پر تعاون کرےگا۔
ان کشیدہ حالات کے دوران اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران پر ایک بار پھر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے اور اس بار زیادہ طاقت سے حملہ کیا جائے گا۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس انتباہ کی بازگشت ہے جو انہوں نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد جاری کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی جوہری مذاکرات میں واپسی امریکا کے دوبارہ حملہ نہ کرنے سے مشروط
تاہم ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ تہران صیہونی حکومت کے خلاف اپنا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔











