وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اعلان کیا ہے کہ فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کی تنظیمِ نو کرتے ہوئے اس کا نیا نام ’فیڈرل کانسٹیبلری‘ رکھا جا رہا ہے، جو قومی سطح پر بھرتی، تربیت اور آپریشنل استعداد کے نئے معیارات پر استوار ہو گی۔
فیصل آباد میں ایف سی کمانڈنٹ ریاض نذیر کے ہمراہ پریس بریفنگ کے دوران طلال چوہدری نے کہا کہ ایف سی کا قیام 1913 میں ہوا تھا اور قیامِ پاکستان کے بعد یہ فورس وفاقی حکومت کے ماتحت خدمات انجام دیتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ ایف سی نے انسداد دہشت گردی، انسداد منشیات، امن عامہ اور جرائم کے خاتمے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، جس میں اس کے درجنوں اہلکار شہید بھی ہوئے۔
مزید پڑھیں: حکومت کا ایف سی کو فیڈرل کانسٹیبلری کے نام سے ملک گیر فورس بنانے کا فیصلہ
طلال چوہدری نے بتایا کہ 18ویں آئینی ترمیم اور موجودہ انتظامی ڈھانچے کو مدنظر رکھتے ہوئے ایف سی کا نام تبدیل کیا گیا ہے اور اب اس میں پورے پاکستان سے افراد کو بھرتی کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایف سی کے حوالے سے ایک نیا آرڈیننس بھی جاری کر دیا گیا ہے جس کے تحت اس کی ساخت، تربیت اور تنخواہوں میں بہتری لائی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایف سی کے اہلکاروں کی تنخواہیں ماضی میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کم تھیں، جسے اب بہتر بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قیامِ امن کے لیے فیڈرل کانسٹیبلری کا کردار مزید اہم ہوگا اور اسے جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے۔
کمانڈنٹ ایف سی ریاض نذیر نے اس موقع پر بتایا کہ فیڈرل کانسٹیبلری کو 6 ڈویژنز اور 41 ونگز پر مشتمل ایک مؤثر اور مربوط فورس میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اس کا ڈھانچہ مختلف شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں ایک نیا “سپیشل پروٹیکشن ونگ” بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ حساس شخصیات اور تنصیبات کی حفاظت کو مزید یقینی بنایا جا سکے۔
مزید پڑھیں: جب چاہیں آپ کی حکومت گرا سکتے ہیں، نبیل گبول کی طلال چوہدری کو دھمکی
ریاض نذیر نے کہا کہ ایف سی جس ایکٹ کے تحت کام کر رہی تھی، اسے 100 سال سے زائد عرصہ ہو چکا تھا، اور وقت کی ضرورت تھی کہ اس ادارے میں بنیادی اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فیڈرل کانسٹیبلری کی آپریشنل ضروریات اب وفاقی حکومت براہِ راست پورا کرے گی، جس سے اس کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ فورس کی تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاکہ یہ ادارہ مستقبل میں بھی ملک کی سیکیورٹی ضروریات کو بہتر طور پر پورا کر سکے۔














