محکمہ موسمیات خبردار کیا ہے کہ رواں ہفتے ملک کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار مون سون بارشوں کے باعث اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا شدید خطرہ ہے، جبکہ 26 جون سے اب تک بارش سے متعلقہ حادثات میں جاں بحق افراد کی تعداد 105 تک جا پہنچی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ 40 اموات پنجاب میں ہوئیں، اس کے بعد خیبر پختونخوا میں 31، سندھ میں 17، بلوچستان میں 16 اور آزاد کشمیر میں ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔
مزید برآں، بارش سے متعلقہ واقعات میں مجموعی طور پر 211 افراد زخمی ہوئے، جن میں 111 کا تعلق پنجاب، 54 خیبر پختونخوا، 7 سندھ، 5 آزاد کشمیر اور 4 بلوچستان سے ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مون سون 2025: معمول سے زیادہ بارشیں، سیلاب اور اربن فلڈنگ کا خطرہ، محکمہ موسمیات
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ مون سون کا تیسرا اسپیل 14 جولائی سے ملک بھر میں شروع ہو چکا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کم دباؤ کا علاقہ اس وقت بھارت کے شمال مغربی مدھیہ پردیش میں موجود ہے، جو آئندہ 24 سے 72 گھنٹوں میں پاکستان کو متاثر کرے گا۔
مزید کہا گیا کہ اس سسٹم کے زیرِ اثر مرکزی اور بالائی علاقوں میں مون سون ہوائیں شدت کے ساتھ داخل ہوں گی، جب کہ ایک مغربی ہوا کا نظام بھی بالائی علاقوں میں موجود ہے، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، کشمیر، پنجاب اور شمال مشرقی بلوچستان میں بعض مقامات پر شدید کبھی کبھار بہت شدید بارشیں متوقع ہیں۔
مزید پڑھیں:رواں سال معمول سے زیادہ مون سون بارشیں متوقع ہیں، محکمہ موسمیات
گزشتہ روز خیبر پختونخوا، پنجاب، کشمیر، گلگت بلتستان، اسلام آباد اور شمال مشرقی و جنوبی بلوچستان میں شدید بارش، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی تھی۔
انتظامیہ کو ممکنہ لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کے خطرات کے حوالے سے خبردار کیا گیا ہے، خاص طور پر مری، گلیات، خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان جیسے پہاڑی علاقوں میں، جہاں سڑکیں بند ہونے یا راستے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، سرگودھا، فیصل آباد، نوشہرہ اور پشاور کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے، عوام کو احتیاط کی تلقین کی جاتی ہے۔
مزید پڑھیں: ملک بھر میں 15 تا 17 جولائی تیز ہواؤں، شدید بارش کی پیشگوئی
این ڈی ایم اے نے صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی اقدامات، ریسکیو مشینری کی دستیابی اور نکاسی آب کے نظام کی صفائی کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
سیاحوں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ شدید بارشوں کے دوران بلند و بالا علاقوں کا سفر کرنے سے گریز کریں۔
واضح رہے کہ 24 کروڑ سے زائد آبادی کے ساتھ پاکستان کی موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک میں سرفہرست ہے، 2022 میں ریکارڈ مون سون بارشوں اور گلیشیئر پگھلنے سے آنے والے تباہ کن سیلاب نے 3 کروڑ 30 لاکھ افراد کو متاثر کیا تھا اور 1,700 سے زائد جانیں لے لی تھیں۔














