ڈیٹا لیک کے بعد خفیہ پروگرام کے تحت ہزاروں افغان شہریوں کی برطانیہ منتقلی کا انکشاف

بدھ 16 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لندن کی ہائیکورٹ کے دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ برطانیہ نے ایک خفیہ منصوبے کے تحت ہزاروں افغانوں کو ملک میں دوبارہ آباد کرنے کا فیصلہ کیا تھا، یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب برطانوی وزارتِ دفاع کے ایک اہلکار کی جانب سے غلطی سے 33 ہزار سے زائد افغان شہریوں کی ذاتی معلومات افشا ہو گئیں، جس سے ان کیخلاف طالبان کی انتقامی کارروائیوں کا خطرہ بڑھ گیا۔

حال ہی میں منظرِ عام پر آنیوالے مئی 2024 میں لندن ہائیکورٹ کے ایک فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تقریباً 20 ہزار افراد کو برطانیہ منتقل کرنا پڑ سکتا ہے، جس پر ممکنہ طور پر کئی ارب پاؤنڈ خرچ آئیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا افغانستان سے اپنا جنگی سامان کیوں واپس لینا چاہتا ہے؟

برطانیہ کے موجودہ وزیر دفاع جان ہیلی نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ’افغان ریسپانس روٹ‘ نامی پروگرام کے تحت اب تک تقریباً 4,500 متاثرہ افراد برطانیہ پہنچ چکے ہیں یا منتقلی کے مراحل میں ہیں، جس پر 40 کروڑ پاؤنڈ خرچ ہو چکے ہیں۔

برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے منگل کے روز پارلیمنٹ میں اس منصوبے کا انکشاف کیا۔ تصویر بشکریہ الجزیرہ

وزارتِ دفاع کی جانب سے ڈیٹا لیک پر کرائی گئی ایک اندرونی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مئی 2025 تک 16 ہزار سے زائد متاثرہ افراد کو برطانیہ منتقل کیا جا چکا ہے۔

یہ ڈیٹا لیک 2022 کے اوائل میں اس وقت ہوا جب ان افراد کے نام اور ذاتی معلومات غلطی سے افشا ہو گئیں جو افغانستان میں برطانوی افواج کے معاون رہ چکے تھے۔ وزارتِ دفاع کو اس سنگین غلطی کا علم اگست 2023 میں ہوا جب ڈیٹا کا ایک حصہ فیس بک پر شائع ہوا۔

اس ڈیٹا لیک کے بعد ستمبر 2023 میں اُس وقت کی کنزرویٹو حکومت نے ایک ’سپر انجنکشن‘ حاصل کی، تاکہ اس لیک کی تفصیلات عوام کے سامنے نہ آئیں۔ وزارتِ دفاع نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ معلومات منظرِ عام پر آنے سے متاثرہ افراد طالبان کی جانب سے قتل یا شدید تشدد کا نشانہ بن سکتے ہیں، یہ پابندی حالیہ دنوں ہٹالی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:افغانستان میں گرفتار برطانوی جوڑے کے بچوں کا طالبان کو خط، والدین کی رہائی کی اپیل

وزیراعظم کیئر سٹارمر کی قیادت میں قائم ہونے والی لیبر حکومت نے جولائی 2024 کے انتخابات کے بعد انجنکشن، ڈیٹا لیک اور دوبارہ آبادکاری پروگرام پر نظرثانی کا آغاز کیا، اس جائزے میں اگرچہ افغانستان کو اب بھی خطرناک قرار دیا گیا، تاہم طالبان کی جانب سے منظم انتقامی مہم کی واضح شواہد موجود نہیں۔

وزیر دفاع ہیلی نے اس سنگین کوتاہی پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ کبھی پیش نہیں آنا چاہیے تھا، انہوں نے مزید بتایا کہ ’افغان ریسپانس روٹ‘ پروگرام اب بند کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب، تقریباً 36 ہزار دیگر افغان شہریوں کو برطانیہ کے دیگر آبادکاری پروگراموں کے تحت منتقل کیا جا چکا ہے۔

مزید پڑھیں:برطانیہ اور پاکستان کے مابین سمجھوتے پر دستخط، فوجداری انصاف کے امور پر اشتراک ممکن

یاد رہے کہ برطانیہ نے افغانستان میں 2001 کے بعد امریکا کی قیادت میں شروع ہونے والی ’وار آن ٹیرر‘ مہم کے تحت فوجی دستے تعینات کیے تھے، اس دوران وہاں برطانوی فوجیوں کی تعداد 10 ہزار تک جا پہنچی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک افغان کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس گرگیا

ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی

افغان طالبان نے متعدد پوسٹوں پر سفید پرچم لہرا کر امن کی بھیک مانگ لی

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟