ایران نے اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے اپنی سرزمین پر حملوں کو جائز قرار دینے والے یورپی ممالک کے جانبدارانہ مؤقف پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسی پالیسیوں سے عالمی سطح پر قانون شکنی کو معمول بنانے اور عدمِ تحفظ کو ہوا دینے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں اسرائیلی فوجی گرفتار، فرد جرم عائد
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے سوئس ہم منصب اگنازیو کاسس سے ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران کہا کہ ایران پر صیہونی حکومت اور امریکا کی فوجی جارحیت اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ممالک کو جارحیت کے خلاف واضح اور مضبوط مؤقف اپنانا چاہیے، بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی کی مذمت کرنی چاہیے اور حملہ آوروں کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔

انہوں نے بعض یورپی ریاستوں کی جانب سے اسرائیل اور امریکا کے ایران پر حملوں کی حمایت یا خاموشی کو جانبدارانہ اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرز عمل سے دنیا میں قانون شکنی کی روش کو فروغ ملے گا اور عالمی و علاقائی عدمِ استحکام میں اضافہ ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں:100 سے زائد ایرانی عہدیداروں سے تعلق کا الزام، کیا فرانسیسی صحافی کیتھرین شکدم جاسوس تھی؟
دوسری جانب سوئس وزیر خارجہ نے ایران کے ساتھ سفارتی روابط کے فروغ اور ثالثی کے کردار کے لیے اپنے ملک کی آمادگی کا اعادہ کیا۔
انہوں نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کشیدگی میں اضافے سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا۔











