’صرف گولی کی اجازت ہے‘

پیر 21 جولائی 2025
author image

مشکور علی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وہ لمحہ تاریخ نہیں تھا، مگر امر ہوگیا۔
ایک لڑکی، گندمی چادر میں لپٹی، ہاتھ میں قرآن، اور لہجے میں وہی یقین جو سچائی کی آخری پناہوں میں ہوتا ہے۔
وہ سامنے کھڑے لوگوں سے کچھ مانگ نہیں رہی تھی، صرف اتنا کہہ رہی تھی:
’صرف گولی کی اجازت ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں‘

یہ کوئی فلمی منظر نہیں تھا۔ یہ کوئی افسانہ نہیں تھا۔ یہ 2025 کا پاکستان تھا، آئین اور قانون کے سایے میں زندہ وہ زمین، جہاں ایک لڑکی کو اس کے انتخاب پر سزا ملی ۔ ۔ ۔ وہ بھی موت، سزائے موت۔

کسی نے اس کا نام بانو بتایا، کسی نے شیتل۔ کوئی کہتا ہے وہ شادی شدہ تھی، کوئی اسے بے باک کہتا تھا، مگر اصل بات یہ ہے کہ وہ ایک آزاد منش انسان تھی اور اس کا جرم بھی یہی تھا۔

بلوچستان کی سنگلاخ وادیاں خوبصورت ہیں، مگر ان کے سینے میں دفن کہانیاں زخموں سے چُور ہیں۔ ماروڑا، مارگٹ، ڈیگاری جیسے نام رزمیہ نظموں سے ہیں، مگر فضا میں گولیوں کی گونج ہے، آندھیوں کی چاپ، اور رسموں کا راج۔ یہاں قانون صرف وہ ہے جو جرگہ کہے۔ یہاں انصاف بس وہ ہے جو بندوق سے نکلے۔

ایسی ہی کسی دور افتادہ پہاڑی بستی میں احسان اللہ اور بانو بی بی نے ہمت کی کہ من مرضی سے جینے کا خواب دیکھیں۔ وہ خواب جس پر ہر بار شریعت کا نہیں، بلکہ رسم و رواج کا کلہاڑا گرتا ہے۔ وہ چھپے نہیں، بھاگے نہیں، صرف جینا چاہتے تھے ۔ ۔ ۔ ایک ساتھ، بنا کسی خوف کے۔

شاید وہ بھول گئے تھے کہ اس ملک کے اکثر حصے ابھی تک ’پسند‘ کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ یہاں بیٹی کی مرضی، غیرت پر حملہ ہے۔ یہاں لڑکی کا ’ہاں‘ کہنا ۔ ۔ ۔ خاندان کی ناک کٹنے کے مترادف ہے۔

جرگہ بیٹھا۔ عدالت نہیں، مگر ایسا ڈرامہ رچایا کہ جیسے فرشتے فیصلے سنانے آئے ہوں۔ نہ وکیل، نہ صفائی کا موقع، صرف الزام در الزام، فقط سزا۔
اور پھر، دو نوجوان، جو جرمِ محبت کے مجرم تھے، قتل کر دیے گئے۔
نہ صرف قتل ۔ ۔ ۔ بلکہ اس بے حسی سے قتل کہ جسے دیکھ کر پتھر بھی پگھل جائیں۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔
2024 میں صرف بلوچستان میں غیرت کے نام پر 47 رپورٹ شدہ قتل ہوئے۔ ان میں سے اکثر لڑکیاں تھیں جنہوں نے فقط جینے کی آرزو کی تھی۔
نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کے مطابق ہر سال 1000 سے زائد خواتین ایسی ہی ’غیرت‘ کی بھینٹ چڑھتی ہیں۔ مگر جرم ہمیشہ پوشیدہ رہتا ہے، قاتل اکثر معاف، اور معاشرہ ہمیشہ خاموش۔

کیوں؟
کیونکہ ہم نے سیکھ لیا ہے کہ محبت صرف گانوں اور کہانیوں میں اچھی لگتی ہے، حقیقت میں نہیں۔
کیونکہ ہم نے قرآن کو بطور دلیل تو یاد رکھا، مگر اس کے پیغامِ رحمت کو بھلا دیا۔
کیونکہ ہمیں انصاف سے زیادہ اپنے رواج عزیز ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ نے نوٹس بھی لے لیا۔ گیارہ گرفتار بھی ہوگئے، بانو کا بھائی جلال بھی۔
ریاست مدعی بنی۔
مگر سوال یہ ہے کہ جرم صرف ایک بھائی کا تھا؟
کیا وہ جرگہ بے قصور ہے؟
کیا وہ لوگ جو اس قتل کو ’عزت کا بدلہ‘ کہتے ہیں، پاکباز ہیں؟
کیا وہ سب ہاتھ جھاڑ کر بیٹھ سکتے ہیں جنہوں نے فقط تماشا دیکھا؟
نہیں۔
ہم سب شریکِ جرم ہیں، اپنی خاموشی سے، اپنی بےحسی سے، اپنی منافقت سے۔

یہ صرف احسان اور بانو کی کہانی نہیں رہی۔
یہ ہر اُس شخص کی کہانی ہے جو آج بھی کسی بانو کی آنکھوں میں ’اپنی مرضی‘ کا خواب دیکھتا ہے۔
یہ اُس ہر لڑکی کی داستان ہے جو قرآن کو اپنے محافظ کے طور پر دیکھتی ہے، لیکن اسے تحفظ نہیں، خامشی نصیب ہوتی ہے۔
اور سب سے بڑھ کر، یہ کہانی ہمارے ضمیر کی ہے جو مرتا نہیں، صرف سسکتا ہے۔

جب بھی کسی جرگے کے سامنے کوئی لڑکی کھڑی ہو،
جب بھی وہ بولے ’مجھے جینا ہے، اپنی مرضی سے‘
تو یاد رکھنا بانو کی آنکھیں اس کے ساتھ ہوں گی۔
وہی آنکھیں اپنوں کی بندوق جن سے اوجھل تھی۔
وہی لب جو کہہ رہے تھے:
’صرف گولی کی اجازت ہے‘
یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا۔
یہ ایک صدیوں پرانی داستان کا آخری باب تھا اور شاید، اگلے انقلاب کا پہلا قدم۔

اب وقت ہے کہ ہم یہ فیصلہ کریں:
کیا ہم اب بھی اس ظلم کو افسانہ سمجھ کر بھول جائیں گے؟
یا وہ قوم بنیں گے جو قرآن تھامے کھڑی لڑکی کو گولی نہیں، تحفظ دے؟
جو ریاست صرف پریس ریلیز دیتی ہے، وہ ریاست نہیں فقط ایک سرکاری فائل ہے۔
اب بانو کو انصاف نہیں، اگلی بانو کی زندگی بچائیے۔
اب نوٹس نہیں، نظام بدلیے۔
ورنہ کل تاریخ پوچھے گی:
جب بانو کو مارا گیا تم نے کیا کیا تھا؟
اور ہمارے پاس، صرف خاموشی ہوگی اور آنکھوں میں وہی خوف، جو بانو کی آنکھوں میں نہیں تھا۔

یہ افسانہ نہیں۔ اگر آپ اسے افسانہ سمجھ کر پڑھ رہے ہیں، تو یاد رکھیں کل بانو کی جگہ آپ کی بیٹی، بہن یا محبوبہ بھی ہو سکتی ہے۔ اور شاید، وہ بھی صرف یہی کہہ سکے:

’صرف گولی کی اجازت ہے‘

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تونسہ میں ایچ آئی وی بحران، غیر تربیت یافتہ افراد سے انجیکشن لگوانے کا انکشاف

بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی حکومتی اجازت کے بغیر غیرملکیوں سے شادی پر پابندی، نئے رولز جاری

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنج پر ادارے تیار، ڈیٹا کو لاحق خطرات میں اضافہ

ویڈیو

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

پاکستان میں بھارتی مواد چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، عوام کی رائے

پچھلے 13 سالوں میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا، آفتاب شیرپاؤ

کالم / تجزیہ

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا

سمندری ناکہ بندی اور فیصلہ کن گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم کردار