اسرائیلی فوج نے غزہ کی بھوک زدہ آبادی تک امداد پہنچانے والی اٹلی کی کشتی ’حنظلہ‘ پر بحیرہ روم میں زبردستی قبضہ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل نے امدادی کشتی فریڈم فلوٹیلا ’میڈلین‘ کو قبضے میں لے لیا
فریڈم فلوٹیلا کولیشن کی لائیو اسٹریم ویڈیو میں دیکھا گیا کہ کم از کم 6 اسرائیلی فوجیوں نے نہتے بین الاقوامی کارکنوں کو اسلحے کے زور پر ہٹاتے ہوئے کشتی پر چڑھائی کی، جہاں کارکن لائف جیکٹس پہنے بیٹھے تھے۔

یہ 40 دنوں میں دوسری بار ہے کہ اسرائیل نے غزہ کی جانب جانے والی امدادی کشتی کو روکا ہے۔
دوسری طرف غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 71 فلسطینی شہید ہوئے جن میں الجزیرہ کے مطابق 42 وہ افراد شامل ہیں جو خوراک اور ادویات کی تقسیم کا انتظار کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:غزہ دنیا کا ’سب سے بھوکا علاقہ‘ قرار، اقوام متحدہ کا انتباہ
بھوک اور بیماریوں سے مزید 127 اموات ریکارڈ کی گئیں جن میں 85 شیر خوار اور چھوٹے بچے شامل ہیں۔
ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق غزہ کی 38 فیصد آبادی شدید غذائی قلت کا شکار ہے۔

بین الاقوامی سطح پر جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ پر امدادی پابندیاں فوری اٹھائے، جبکہ یورپ بھر میں مصر کے سفارت خانوں کے باہر اسرائیلی مظالم کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے۔
یو ایس ایڈ نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ حماس کی جانب سے امریکی امداد کی چوری کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔

اب تک اسرائیلی حملوں میں 59 ہزار 700 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 44 ہزار 477 تک پہنچ گئی ہے۔
جون 2025 سے اب تک بھوک اور قحط سے 127 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔














