پاکستان نے سائنس کے عالمی میدان میں ایک تاریخی سنگ میل عبور کر لیا، صدیق پبلک اسکول کے طالبعلم عبدالرفیع پراچہ نے فلپائن میں منعقدہ 35ویں انٹرنیشنل بائیولوجی اولمپيڈ (IBO) میں ملک کے لیے پہلا گولڈ میڈل جیتا۔ یہ مقابلہ 20 سے 27 جولائی تک جاری رہا اور دنیا بھر سے اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل طلبا نے اس میں حصہ لیا۔
پاکستانی ٹیم نے یہ کارنامہ اسٹیم کیریئرز پروگرام کے تحت سر انجام دیا، جو ہائیر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز (PIEAS) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ ٹیم کی رہنمائی ڈاکٹر اسما عمران اور ڈاکٹر اسما رحمان نے کی، جو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ (NIBGE) سے وابستہ ہیں، اور PIEAS و پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن (PAEC) کے اہم ادارے کا حصہ ہیں۔
مزید پڑھیں: ساون، چائے اور موسیقی: بارش میں بھیگتے بل بورڈ کو گنیز ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز کیوں ملا؟
اس کامیابی کے علاوہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی طالبہ ایان اسلم کو اعزازی سند (Honorable Mention) سے نوازا گیا، جبکہ صدیق پبلک اسکول راولپنڈی کی سعدیہ ذوالفقار اور فیوژن کالج شکرگڑھ، نارووال کی عروج فاطمہ نے بھی عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کی۔
پاکستان میں ہر سال PIEAS، PAEC کی نگرانی میں نیشنل سائنس ٹیلنٹ کانٹیسٹ (NSTC) منعقد کرتا ہے، جس میں فزکس، کیمسٹری، بائیولوجی اور میتھمیٹکس کے میدان شامل ہیں۔ یہ مقابلہ پہلے صرف فزکس تک محدود تھا، مگر 2003 سے اسے دیگر سائنسی مضامین تک وسعت دی گئی۔
پاکستان نے بین الاقوامی سائنسی اولمپيڈ میں اپنی شرکت کا آغاز 2001 میں فزکس، 2005 میں میتھمیٹکس، اور 2006 میں بائیولوجی و کیمسٹری سے کیا۔ اب تک پاکستان کے 380 سے زائد طلبا ان عالمی مقابلوں میں شرکت کر چکے ہیں، جنہوں نے مجموعی طور پر 140 تمغے جیتے۔














