کراچی کے علاقے چائنا پورٹ سے میاں بیوی کی لاشیں ملنے کے ہولناک واقعے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ کراچی پولیس کی خصوصی ٹیم تفتیش کے سلسلے میں گوجرانوالہ پہنچ چکی ہے، جہاں سے 4 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق گرفتار افراد میں مقتولہ ثنا آصف کا بھائی وقاص اور دیگر شامل ہیں۔ مقتول ساجد کے والد، عارف مسیح، کراچی پہنچ چکے ہیں اور انہوں نے پولیس کو اپنا تفصیلی بیان بھی ریکارڈ کرا دیا ہے۔
مزید پڑھیں: مستونگ، پسند کی شادی کرنے والا جوڑا 7 سال بعد غیرت کے نام پر قتل
عارف مسیح نے بتایا کہ ان کے بیٹے ساجد کے دوست احتشام اور ثنا کے بھائی سمیت 5 افراد پر انہیں شک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساجد 14 جولائی کو گھر سے نکلا اور پھر واپس نہ آیا۔ اگلے روز مقتولہ ثنا کے گھر کی خواتین نے ان کے گھر آ کر انہیں ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی، جس کے بعد انہوں نے خوف کے باعث اپنا گھر چھوڑ دیا اور کسی اور جگہ منتقل ہو گئے۔
عارف کے مطابق ان کے گھر کو نقصان بھی پہنچایا گیا، اور انہیں ساجد اور ثنا کی لاشیں ملنے کی اطلاع سوشل میڈیا اور رشتہ داروں سے ملی۔ جناح اسپتال پہنچ کر انہوں نے لاشوں کی تصویریں دیکھ کر شناخت کی۔ اب پولیس کو باضابطہ بیان دے دیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق اس بیان کی روشنی میں مقدمے میں مزید افراد کو نامزد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ گوجرانوالہ سے 11 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں خاتون مقتولہ کا بھائی بھی شامل ہے۔ مقتولہ ثنا کی فیملی کو شاملِ تفتیش کیا جا چکا ہے۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ: ایک ہی خاندان کے 6 افراد کو قتل کرنے والے مجرموں کو سزا سنا دی گئی
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قتل کا مقدمہ بوٹ بیسن تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف درج ہے، تاہم اب شواہد اور بیان کی بنیاد پر کیس کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد سے تفتیش جاری ہے اور جلد اصل ملزمان تک پہنچنے کی امید ہے۔
حکام کے مطابق اس وقت قتل کی وجہ اور اصل محرکات کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، تاہم مقتول کے والد کے بیان نے کیس میں نیا رُخ دے دیا ہے۔
کراچی کے چائنہ پورٹ کے قریب قتل کیے گئے خاتون اور مرد میاں بیوی تھے، تعلق گوجرانوالہ سے تھا، ساجد مسیح نے 22 جولائی کو اسلام قبول کیا، دونوں نے 22 جولائی کو ہی کورٹ میرج کی تھی۔ پولیس کے مطابق شبہ ہے کہ قاتلوں کی تعداد بھی کم از کم 2 تھی، دونوں کو ٹارگٹ کرکے قتل کیا گیا، دونوں کو سر کے پچھلے حصے پر ایک ایک گولی ماری گئی، مقتولین کا تعلق گوجرانولہ کے ایک ہی گاؤں سے تھا۔














