پی ٹی آئی احتجاج: کارکنوں نے علی امین گنڈاپور کے سامنے ڈی چوک جانے کے نعرے لگا دیے

منگل 5 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پشاور کے علاقے رنگ روڈ پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے سامنے ڈی چوک جانے کے نعرے لگا دیے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی تحریک، ارکان پارلیمنٹ اڈیالہ جیل کی طرف روانہ، پشاور موٹروے بند

علی امین گنڈاپور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے نکالی جانے والی ریلی کی قیادت کے لیے حیات آباد ٹول پلازہ پہنچے تھے جہاں کارکنوں نے ڈی چوک کی جانب مارچ کے حق میں نعرے بازی شروع کردی۔

صورتحال کو سنبھالنے کے لیے ٹریفک پولیس اہلکاروں اور پارٹی قیادت نے مداخلت کرتے ہوئے کارکنوں کو راستے سے ہٹایا، جس کے بعد وزیراعلیٰ کا قافلہ دوبارہ روانہ ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں: 26 نومبر پی ٹی آئی احتجاج: 250 ملزمان کی ضمانت منظور، 150 کی درخواستیں مسترد

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آج عمران خان کی رہائی کے لیے ملک گیر احتجاج کررہی ہے۔ قومی اسمبلی کے ارکان اور سینیٹرز نے اڈیالہ جیل جانے کا اعلان کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش، ہوشربا انکشافات، ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش

’وہ اپنا ذہنی توازن کھو رہے ہیں‘، جھیل کا نام تبدیلی کرنے کے فیصلے پر امریکیوں کی ٹرمپ پر تنقید

عمران خان کے بچوں کی طرح غزہ کے قیدیوں کے بچوں کو بھی بولنے کا موقع دیں، خواجہ آصف کا اسکائی نیوز کو جواب

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی چینی سرمایہ کاروں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت

ویڈیو

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں