متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی اور قائد الطاف حسین نے 47 سالہ جدوجہد کے بعد اپنی سیاسی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے تمام کارکنوں کو تحریک سے وفاداری کے حلف سے آزاد کرنے کا اعلان کردیا۔
دنیا بھر بشمول پاکستان کے جنرل ورکرز اجلا س سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کارکن اب اپنی مرضی سے کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ’کارکن اپنے حلف سے آزاد ہیں، وہ جہاں چاہیں، جس جگہ چاہیں، جس کسی بھی سیاسی پارٹی کوجوائن کرناچاہیں اسے جوائن کرنے میں آزاد ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیں:ایم کیو ایم پاکستان اختلافات کا شکار، کارکنان کا بہادرآباد مرکز پر دھاوا، تصادم میں 10 افراد زخمی
الطاف حسین نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کے تمام محروم طبقات، خصوصاً مہاجر عوام کے حقوق کے لیے بغیر کسی وقفے کے دن رات جدوجہد کی مگر ہزاروں کارکنوں کی قربانیوں، جبری گمشدگیوں، قید و بند اور جلاوطنی کے باوجود وہ نہ تو پاکستان کے فرسودہ نظام کو بدل سکے اور نہ ہی مہاجر قوم کو ان کے حقوق دلا سکے۔
https://Twitter.com/AltafHussain_90/status/1954640629784301822
الطاف حسین نے بتایا کہ ان کے اپنے خاندان کو بھی جانی و مالی نقصانات کا سامنا رہا، 1995 میں ان کے بھائی ناصر حسین اور بھتیجے عارف حسین کو اغوا کے بعد قتل کیا گیا، جبکہ دیگر قریبی رشتہ دار گرفتاریوں، تشدد اور جلاوطنی کا شکار ہوئے۔ ’ میرے باقی بہن بھائیوں میں بھی کوئی ایسا باقی نہ بچاتھا کہ جسے گھروں پرمسلسل چھاپے پڑنے کے بعد دیار غیر میں پناہ نہ لینی پڑی ہو۔‘
مزید پڑھیں:ایم کیو ایم میں اختیارات کی جنگ، فاروق ستار کے جانے کے بعد مصطفیٰ کمال کی اجلاس میں شرکت
الطاف حسین کا کہنا تھا کہ وہ تمام تحریکی ساتھیوں بشمول سابقہ رابطہ کمیٹی، کنوینر، ڈپٹی کنوینز، تمام تحریکی کارکنوں کواس حلف سے جو انہوں نے تحریک اور ان سے وفاداری کا اٹھایا تھا آزاد کرتے ہیں۔ ’میں جب تک زندہ ہوں، حقوق کے حصول کے لیےچلائی جانے والی تحریکی جدوجہد کو سوشل میڈیا کے توسط سے جاری رکھوں گا، کامیابی یاناکامی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔‘