پنجاب میں ممکنہ سیلاب کا خدشہ، پی ڈی ایم اے کی وارننگ

منگل 12 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یعنی پی ڈی ایم اے پنجاب نے خبردار کیا ہے کہ بالائی علاقوں میں متوقع بارشوں اور بھارت کی جانب سے پانی کے ممکنہ اخراج کے باعث صوبے کی دریاؤں میں سیلابی صورتِ حال پیدا ہوسکتی ہے۔

پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق خدشہ ہے کہ بھارت آئندہ 2 روز میں دریائے ستلج میں پانی چھوڑ سکتا ہے کیونکہ بھارتی ڈیموں میں پانی کی سطح غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہے۔ بھاکڑا ڈیم 61 فیصد، پونگ ڈیم 76 فیصد اور تھین ڈیم 64 فیصد بھر چکے ہیں۔

پی ڈی ایم اے پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کتھیا نے بتایا کہ پی ڈی ایم اے پنجاب، انڈس ریورسسٹم اتھارٹی یعنی ارسا اور محکمہ آبپاشی دریاؤں اور ڈیموں کی صورتِ حال کو 24 گھنٹے مانیٹر کر رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ گنڈا سنگھ کے مقام پر دریائے ستلج کا پانی معمول پر آ گیا ہے، تاہم بہاؤ میں دوبارہ اضافے کا خطرہ موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ 13 اگست سے شروع ہوسکتا ہے، ڈی جی پی ڈی ایم اے

عرفان علی کتھیا نے کہا کہ دریائے چناب میں مرالہ، کھنکی اور قادر آباد کے مقامات پر درمیانے سے بلند درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔

پی ڈی ایم اے نے تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت دی ہے۔ دریائی کناروں پر رہنے والے شہریوں سے کہا گیا ہے کہ فوراً محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور ہنگامی انخلا کی صورت میں انتظامیہ سے تعاون کریں۔

ترجمان نے عوام کو خبردار کیا کہ سیلابی حالات میں دریا، نہر، برساتی نالوں اور تالاب میں نہانے سے گریز کریں، اور دریاؤں کے کناروں پر پکنک یا غیر ضروری آمدورفت سے پرہیز کریں۔ والدین کو بچوں کو دریا اور نالوں کے قریب جانے سے روکنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں شہری پی ڈی ایم اے پنجاب کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:14 سے 23 اگست تک مون بارشوں کا نیا اسپیل، سیلاب و اربن فلڈنگ کے خدشات

ادھروزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یعنی این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کے ساتھ ملاقات میں ہدایت کی کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد اور بحالی کے لیے صوبوں کے ساتھ مزید مضبوط روابط قائم کیے جائیں اور ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر بروقت وارننگ متاثرہ علاقوں کے عوام تک پہنچائی جائے۔

وزیراعظم کو گلگت بلتستان میں ارلی وارننگ سسٹم کے قیام اور وزارت ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ تعاون پر پیشرفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔

دوسری جانب ارسا نے منگل کو مختلف مقامات سے 3 لاکھ 75 ہزار 200 کیوسک پانی کا اخراج کیا، جب کہ پانی کا مجموعی بہاؤ 4 لاکھ کیوسک ریکارڈ ہوا، تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1546.50 فٹ رہی، جو ڈیڈ لیول سے 144.50 فٹ زیادہ ہے۔ منگلا ڈیم میں سطحِ آب 1206.50 فٹ رہی، جو ڈیڈ لیول سے 156.50 فٹ زیادہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سانحہ پمز، بچوں کو کیوں نہ بچایا جا سکا؟، تحقیقاتی کمیٹی نے 11 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کردی

خیبر پختونخوا: بنوں اور لکی مروت میں پولیس امن کمیٹی کا منصوبہ ناکام

امریکا میں سندھ طاس معاہدے پر عالمی سیمینار، بھارتی اقدامات خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک قرار

روزگار، تعلیم، صحت اور ڈیجیٹل معیشت، افتخار گیلانی کا آزاد کشمیر کی ترقی کے لیے روڈ میپ سامنے آگیا

گل پلازہ سانحہ: جوڈیشل کمیشن کی 78 صفحات پر مشتمل رپورٹ منظرعام پر آگئی، اہم انکشافات

ویڈیو

ہمارا نظامِ صحت سڑ چکا، سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ سے تمام حقائق سامنے آجائیں گے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی پاسپورٹ آفس اور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات میں اضافے کا اعلان

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں