گل پلازہ سانحہ: جوڈیشل کمیشن کی 78 صفحات پر مشتمل رپورٹ منظرعام پر آگئی، اہم انکشافات

ہفتہ 29 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ حکومت نے کراچی کے معروف کاروباری مرکز گل پلازہ میں 17 جنوری 2026 کو پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ جاری کردی ہے۔ 78 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں سانحے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے متعدد انتظامی، حفاظتی اور امدادی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے میں 72 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ سندھ حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے 4 فروری 2026 کو جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

رپورٹ کے آغاز میں معنی خیز شعر

جوڈیشل کمیشن کی سربراہی کرنے والے جسٹس فیصل نے رپورٹ کے دیباچے میں ایک معنی خیز شعر بھی شامل کیا ہے:

’میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں، تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے‘۔

رپورٹ میں کسی ایک صوبائی محکمے یا سندھ حکومت کو براہ راست سانحے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا، تاہم واقعے کے مجموعی حالات اور مختلف مراحل میں سامنے آنے والی خامیوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔

فائر سیفٹی انتظامات اور عمارت کی صورتحال

کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گل پلازہ فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزیوں اور خطرناک عمارت قرار دیے جانے کے باوجود طویل عرصے تک تجارتی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتا رہا۔

رپورٹ کے مطابق 2024 اور 2025 کے دوران سول ڈیفنس نے پلازہ میں فائر سیفٹی آلات کی عدم موجودگی اور آتش گیر سامان کی موجودگی سمیت متعدد خامیوں کی نشاندہی کی تھی، تاہم ان نشاندہیوں کے باوجود مؤثر کارروائی نہ ہوسکی۔

کمیشن نے یہ بھی نشاندہی کی کہ قانونی طور پر گل پلازہ میں 1102 دکانوں کی گنجائش تھی، لیکن عملی طور پر وہاں 1153 دکانیں قائم کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق ان دکانوں کی بڑی تعداد میں بھاری مقدار میں آتش گیر سامان بھی موجود تھا۔

آگ بجھانے میں تاخیر اور پانی کی قلت

رپورٹ میں سانحے کے دوران امدادی کارروائیوں میں تاخیر اور دستیاب وسائل کی کمی کو بھی اہم مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔

کمیشن کے مطابق آگ لگنے کے بعد فائر بریگیڈ کو بروقت اطلاع نہیں دی گئی، جس کے باعث کارروائی شروع ہونے میں تاخیر ہوئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آتشزدگی کے تقریباً 35 سے 40 منٹ بعد آگ بجھانے کا عمل شروع ہوا۔

رپورٹ میں فائر بریگیڈ کے بروقت ایکشن نہ لینے اور پانی کی قلت کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ کمیشن کے مطابق اہم آلات بروقت دستیاب نہ ہونے کے باعث صورتحال مزید سنگین ہوگئی۔

اندھیرے، بند راستوں اور ساؤنڈ سسٹم کے استعمال نہ ہونے کا ذکر

جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے مطابق آتشزدگی کے بعد بجلی منقطع ہونے سے پلازہ میں اندھیرا چھا گیا اور لوگوں کو باہر نکلنے کے راستے تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس سے جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گل پلازہ میں ساؤنڈ سسٹم موجود تھا لیکن ہنگامی صورتحال کے دوران اسے استعمال نہیں کیا گیا۔

اس کے علاوہ راستوں کی بندش اور دیگر رکاوٹوں کو بھی لوگوں کے بروقت انخلا میں بڑی مشکلات قرار دیا گیا ہے۔

مختلف اداروں کی کارکردگی پر سوالات

کمیشن نے ضلعی انتظامیہ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، سول ڈیفنس، فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122 اور دیگر فلاحی اداروں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا۔

رپورٹ میں قرار دیا گیا ہے کہ متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں مؤثر اور بروقت انداز میں ادا کرنے میں کامیاب نہیں رہے، جبکہ مختلف سطحوں پر موجود خامیوں اور تاخیر نے سانحے کی شدت میں اضافہ کیا۔

جوڈیشل کمیشن کے مطابق گل پلازہ میں لوگوں کی اموات صرف آگ کے باعث نہیں ہوئیں بلکہ ریسکیو کارروائی میں تاخیر، اندھیرے، بند راستوں، دیگر رکاوٹوں، ناکافی حفاظتی انتظامات، اداروں کی غیر ذمہ داری اور بروقت امداد نہ ملنے جیسے عوامل نے بھی جانی نقصان میں اہم کردار ادا کیا۔

رپورٹ میں مجموعی طور پر گل پلازہ سانحے کے پس منظر میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات، عمارت میں موجود متعدد خامیوں، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی ناکافی تیاری اور مختلف متعلقہ اداروں کی جانب سے بروقت اقدامات نہ کیے جانے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خیبر پختونخوا: بنوں اور لکی مروت میں پولیس امن کمیٹی کا منصوبہ ناکام

امریکا میں سندھ طاس معاہدے پر عالمی سیمینار، بھارتی اقدامات خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک قرار

روزگار، تعلیم، صحت اور ڈیجیٹل معیشت، افتخار گیلانی کا آزاد کشمیر کی ترقی کے لیے روڈ میپ سامنے آگیا

صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری پاکستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، وزیر خزانہ

پمز آتشزدگی: وزیراعظم کی بچے کی جان بچانے والی نرس کے لیے ستارہ خدمت اور ایک کروڑ روپے انعام کی منظوری

ویڈیو

ہمارا نظامِ صحت سڑ چکا، سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ سے تمام حقائق سامنے آجائیں گے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی پاسپورٹ آفس اور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات میں اضافے کا اعلان

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں