امریکی دارلحکومت واشنگٹن میں بین الاقوامی سیمینار میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) کی یکطرفہ معطلی کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور علاقائی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔
واشنگٹن میں پاکستان سفارت خانے کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار کا مقصد بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو بین الاقوامی سطح پر بے نقاب کرنا اور آبی سلامتی کو خطے کے امن سے جوڑنا تھا۔
‘دی انڈس واٹرز ٹریٹی: ساؤتھ ایشین سیکیورٹی ایٹ دی کراس روڈز’ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں اعلیٰ سفارتکار، قانونی ماہرین، ماہرینِ تعلیم اور پالیسی سازوں نے شرکت کی، سیمینار کا بنیادی مقصد بھارت کی جانب سے انڈس واٹرز ٹریٹی کی یکطرفہ معطلی کو بین الاقوامی قانون اور علاقائی سلامتی کے تناظر میں اجاگر کرنا تھا۔
سیمینار میں پاکستان کا واضح مؤقف اجاگر کیا گیا کہ معاہدے کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو سیاسی یا اسٹریٹجک مفاد کے لیے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا، بالخصوص ایسے معاہدے کو جس نے 6 دہائیوں سے زیادہ عرصے تک پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی معاملات کے انتظام اور اختلافات کے حل کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کر رکھا ہے اور اس کی کسی بھی خلاف ورزی سے خطے کا استحکام خطرے میں پڑ رہا ہو۔
تنازعے کو بین الاقوامی سطح پر لے جانے کی حکمت عملی
پاکستان اس آبی تنازعے کو محض دو طرفہ تنازعے کے دائرے سے نکال کر بین الاقوامی قانون اور علاقائی سلامتی کا مسئلہ بنا رہا ہے۔
اس سفارتی مہم کا مقصد بھارت کی اس یکطرفہ ‘معطلی’ کو دنیا بھر میں دیگر بین الاقوامی آبی معاہدوں کو کمزور کرنے کے لیے ایک خطرناک مثال بننے سے روکنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت کی آبی جارحیت، دریائے چناب پر دلہستی ہائیڈرو منصوبے پرکام کا آغاز کردیا
اسلام آباد کی یہ واضح ترجیح ہے کہ بھارت کے غیر قانونی اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لیے قانونی، ادارہ جاتی اور بین الاقوامی میکانزم کو بروئے کار لایا جائے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے اپنے کلیدی خطاب میں خبردار کیا کہ سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ مداخلت کے اثرات نہ صرف پاکستان اور بھارت بلکہ پورے خطے کے امن و سلامتی کے لیے گہرے ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی دباؤ یا سیاسی اثر و رسوخ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیتا ہے، تاہم اختلافات کے حل کے لیے اسلام آباد کی ترجیح مکالمہ، سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور معاہدے میں موجود ادارہ جاتی طریقہ کار ہیں۔
سیمینار میں پاکستان کی جانب سے بنیادی نکتہ یہ اجاگر کیا گیا کہ سندھ طاس معاہدے میں کسی فریق کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ یکطرفہ اعلان کے ذریعے معاہدے کو معطل یا اس کی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو جائے۔
پاکستان کے مطابق بھارت کی جانب سے اپریل 2025 میں معاہدے کو غیر فعال رکھنے کا اعلان بین الاقوامی معاہدوں اور ذمہ داریوں کے اصول اور سندھ طاس معاہدے کے بنیادی قانونی فریم ورک کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کرتا ہے۔ پاکستان اسی نکتے کو عالمی سطح پر قانونی اور سفارتی بحث کا حصہ بنا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:بھارت کی آبی جارحیت: پنجاب میں پھر سیلابی صورت حال، جلال پور پیر والا شہر خالی کرنے کا حکم
اسلام آباد کی حکمت عملی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بھارت کے یکطرفہ اقدام کو ایسا نظیر بننے سے روکا جائے جس سے مستقبل میں دیگر ممالک بھی مشترکہ دریاؤں اور سرحد پار آبی معاہدوں کو سیاسی حالات کے مطابق یکطرفہ طور پر غیر مؤثر قرار دینے کی راہ اختیار کریں۔
6 دہائیوں کی شراکت داری کو استحکام کی مثال قرار
سیمینار میں سندھ طاس معاہدے کی 6 دہائیوں سے زیادہ تاریخ کو اس امر کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا کہ شدید سیاسی کشیدگی، جنگوں اور سفارتی تعطل کے باوجود معاہدوں کے مطابق تعاون خطے میں استحکام کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت نے 1960 میں عالمی بینک کی معاونت سے سندھ طاس معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دریائے سندھ کے نظام کے پانیوں کے استعمال اور دونوں ممالک کے درمیان آبی اختلافات کے حل کے لیے ایک باقاعدہ قانونی و ادارہ جاتی نظام قائم کیا گیا۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ معاہدے کی اصل اہمیت صرف پانی کی تقسیم تک محدود نہیں بلکہ اس کا قانونی ڈھانچہ اختلافات کو تنازع میں تبدیل ہونے سے روکنے اور مذاکرات و قانونی طریقہ کار کے ذریعے حل تلاش کرنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
پانی کی سلامتی، خوراک اور قومی سلامتی سے جڑی
پاکستان نے واشنگٹن میں ہونے والی بحث کے ذریعے پانی کی سلامتی کو براہ راست اقتصادی، غذائی اور قومی سلامتی سے جوڑتے ہوئے واضح کیا کہ دریائے سندھ کا نظام ملک کی معیشت، زراعت، توانائی، روزگار اور خوراک کے تحفظ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
اس تناظر میں پاکستان کا استدلال ہے کہ بالائی حصے میں موجود ملک کی جانب سے پانی کے بہاؤ پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت محض ماحولیاتی یا آبی معاملہ نہیں رہتی بلکہ 2 جوہری صلاحیت رکھنے والی ریاستوں کے درمیان اسٹرٹیجک عدم اعتماد اور بحران کے خطرات میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔
عالمی برادری کو وسیع تر تناظر میں معاملہ دیکھنے کی دعوت
واشنگٹن سیمینار کے ذریعے پاکستان نے عالمی سفارتی، قانونی اور پالیسی سازوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ سندھ طاس معاہدے کا مستقبل صرف پاکستان اور بھارت کے باہمی تعلقات کا معاملہ نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور سرحد پار آبی وسائل کے عالمی نظام سے بھی منسلک ہے۔
جنوبی ایشیا میں پانی، اب محض پانی کا مسئلہ نہیں
سیمینار سے سامنے آنے والا وسیع تر پیغام یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش جنوبی ایشیا میں آبی غیر یقینی، باہمی بداعتمادی اور بحران کے امکانات کو بڑھا سکتی ہے۔
پاکستان اسی لیے پانی کے مسئلے کو علاقائی سلامتی کے تناظر میں پیش کر رہا ہے تاکہ معاہدوں کی پاسداری، بین الاقوامی قانون اور ادارہ جاتی حل کو متبادل کے طور پر مضبوط کیا جا سکے۔
اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی بڑھتی ہوئی طلب اور علاقائی کشیدگی کے موجودہ ماحول میں سندھ طاس معاہدے کی ضرورت کم نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔
ایسے میں پانی کو تصادم کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے تعاون، استحکام اور قابلِ اعتماد علاقائی نظم کا ذریعہ بنانا جنوبی ایشیا کے وسیع تر مفاد میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت جان لے، پانی ہماری ریڈ لائن ہے، 25 کروڑ پاکستانیوں کی آبی بقا پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، اسحاق ڈار
انڈس واٹرز ٹریٹی (آئی ڈبلیو ٹی) قیامِ پاکستان کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم کا ایک بنیادی اور تاریخی معاہدہ چلا آ رہا ہے، جس نے طویل عرصے تک دونوں پڑوسیوں کے درمیان آبی تنازعات کو قابو میں رکھا۔
تاہم حالیہ برسوں میں بھارت کی جانب سے اس معاہدے کی روح کے منافی یکطرفہ بیانات اور اقدامات نے خطے میں آبی عدم استحکام کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
اسی پس منظر میں پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی سفارتی مہم کو تیز کرتے ہوئے اس معاملے کو بین الاقوامی قانونی فورمز پر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ علاقائی امن کو بچایا جا سکے۔














