كوئٹہ میں واقع آئی ٹیک پارک میں سینٹر فار ریسرچ پالیسی ڈویلپمنٹ، پیس اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز بلوچستان کو-کریئیشن ڈائیلاگس کے دوسرے سیشن کا انعقاد كیا گیا جس کا موضوع ’خواتین کا بااختیار بننا اور بلوچستان کی کو-کریئیشن میں ان کا کردار‘ ركھا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں خواتین صحافیوں پر ڈیجیٹل حملے، ایک خاموش محاذ کی کہانی
اس سیشن میں مختلف کمیونٹی رہنماؤں، پالیسی سازوں، ماہرین تعلیم، سول سوسائٹی کے اراکین اور نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا كیا گیا تاکہ تعمیری مکالمے کے ذریعے صنفی عدم مساوات کے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے اور خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی شعبوں میں شمولیت کو فروغ دیا جا سکے۔ اس پروگرام كے تحت خواتین كو ایک مشترکہ پلیٹ فارم کے ذریعے مشترکہ چیلنجز کی نشاندہی، جدید خیالات کے تبادلے اور پائیدار تبدیلی کے لیے حکمت عملی تیار کرنے کا موقع فراہم كرنا تھا جو صوبے بھر میں خواتین کی ترقی کو ممکن بنائے گا۔
مزید پڑھیے: عالمی یوم خواتین: بلوچ خواتین بلوچستان کا ہی نہیں پاکستان کا فخر ہیں
سیشن میں بلوچستان کے مستقبل کی تشکیل میں خواتین کے اہم کردار پر زور دیا گیا اور ان خواتین کی خدمات کو اجاگر كیا گیا جو فیصلہ ساز، کاروباری، معلمہ اور امن کی سفیر کے طور پر انجام دیتی آرہی ہیں۔ سیشن پر خواتین كو درپیش مشكلات اور ان كے حل كے علاوہ اس بات پر زور دیا گیا كہ آنے والے وقتوں میں اس طرح كے سیشنز منعقد كرانے پر زور دیا گیا تاكہ عام اور نوجوان خواتین كو معلوم ہوسكے کہ کس طرح ان ثقافتی اور ساختی رکاوٹوں کو دور کیا جا سکتا ہے جو خواتین کے مواقع کو محدود کرتی ہیں۔ دیکھیے یہ ویڈیو رپورٹ۔













