کوئٹہ میں غیر معیاری و مضر صحت اشیاء کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن

منگل 19 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان فوڈ اتھارٹی (بی ایف اے) نے کوئٹہ اور سملی کچلاک میں کارروائیاں کرتے ہوئے 2 آئسکریم قلفی کارخانے اور ایک واٹر پلانٹ سیل کر دیا۔

قلفی کارخانوں میں مضر صحت اجزاء کا استعمال

بی ایف اے حکام کے مطابق معائنے کے دوران قلفی بنانے والے کارخانوں میں مضر صحت رنگ، آلودہ پانی اور غیر معیاری اجزاء استعمال کیے جا رہے تھے جبکہ پروڈکشن یونٹس میں صفائی ستھرائی کے انتظامات بھی انتہائی ابتر پائے گئے۔

واٹر پلانٹ غیر رجسٹر اور غیر معیاری ثابت

کارروائی کے دوران سیل کیا گیا واٹر پلانٹ غیر رجسٹرڈ پایا گیا اور وہاں لیبارٹری رپورٹس بھی موجود نہیں تھیں۔ مزید یہ کہ بوتل بند پانی پر جعلی کمپنیوں کی لیبلنگ لگا کر مارکیٹ میں سپلائی کیا جا رہا تھا۔

عوام کی صحت سے کھیلنے والوں کو رعایت نہیں دی جائے گی

بی ایف اے حکام کا کہنا ہے کہ عوام کی صحت کے ساتھ کھیلنے والوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ فوڈ سیفٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور غیر معیاری کارخانوں کے خلاف کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیر خارجہ اسحاق ڈار لندن پہنچ گئے، برطانوی وزیر خارجہ سمیت اہم حکام سے ملاقاتیں متوقع

جاپانی کورٹس میں پاکستانی شاہینوں کا راج، 37 ویں جونیئر اوپن سکواش میں 2 گولڈ میڈلز پاکستان کے نام

کھیلوں کا سب سے بڑا میلہ پاکستان میں، 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز کی تاریخوں کا باضابطہ اعلان

ن لیگ آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز کی قیادت پر اعتماد کا اظہار

حنا جاوید قتل کیس: شوہر اور گھریلو ملازم 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

ویڈیو

ہارٹ ٹرانسپلانٹ کا متبادل تیار، چینی سائنسدانوں کا کرشماتی علاج، 90 فیصد ہارٹ فیلیئر مریض صحتیاب

ٹیک ٹائکون زکربرگ نے تاریخی آئرش قلعہ خرید لیا، حقیقت اور قیمت جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

چینی روبوٹس نے دوڑ کاعالمی ریکارڈ تو توڑ دیا، لیکن اصل امتحان اب شروع ہوگا!

کالم / تجزیہ

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟