ساؤتھ ایشیا اولمپک کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے پاکستان میں 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز کے باضابطہ شیڈول اور میزبانی کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت یہ میگا ایونٹ اگلے سال 3 سے 11 اپریل تک منعقد ہوگا۔
اسلام آباد میں صدر پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن عارف سعید کی زیرِ صدارت اجلاس میں طے پایا کہ گیمز کے مقابلے اسلام آباد، لاہور اور پشاور میں کروائے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی کھلاڑیوں کی بحرین میں منعقدہ ایشیائی یوتھ گیمز میں شاندار کارکردگی
حکومتِ پاکستان کے بھرپور تعاون اور وزیرِ اعظم کی فنڈز منظوری کے بعد 4200 سے زائد ایتھلیٹس اور آفیشلز کی آمد متوقع ہے۔
اعلیٰ سطحی اجلاس اور علاقائی ممالک کی شرکت
اسلام آباد میں منعقدہ ساؤتھ ایشیا اولمپک کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اہم اجلاس میں خطے کے تمام رکن ممالک کی نمائندگی دیکھی گئی۔
اجلاس میں سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ کے وفود نے ذاتی طور پر شرکت کی، جبکہ بھارتی وفد نے ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی میں حصّہ لیا۔ اسی اجلاس میں میگا ایونٹ کے باضابطہ شیڈول پر اتفاق کرتے ہوئے مقابلوں کے لیے 3 بڑے شہروں ‘اسلام آباد’، ‘لاہور’ اور ‘پشاور’ کا انتخاب کیا گیا۔
ایونٹ کے اعداد و شمار اور حکومتی سرپرستی
صدر پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن عارف سعید نے بتایا کہ پاکستان اس تاریخی ایونٹ کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اسے ریاست کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔
مزید پڑھیں:کامن ویلتھ گیمز میں ارشد ندیم ایک بار پھر تاریخ دہرانے کے لیے پرعزم
اس میگا ایونٹ کے انعقاد کے لیے وزیراعظم شہباز شریف پہلے ہی ضروری فنڈز کی منظوری دے چکے ہیں۔ ایونٹ میں 4200 سے زائد کھلاڑی اور آفیشلز حصہ لیں گے، جہاں مردوں کے 28 اور خواتین کے 25 مختلف کھیلوں میں کل 346 گولڈ میڈلز کا مقابلہ ہوگا۔
پاکستان میں ساؤتھ ایشین گیمز کی تاریخ
ساؤتھ ایشین گیمز (جسے ماضی میں سیف گیمز بھی کہا جاتا تھا) جنوبی ایشیا کے 8 ممالک کا سب سے بڑا ملٹی اسپورٹس ایونٹ ہے۔
پاکستان اس سے قبل 1989 اور 2004 میں 2 مرتبہ کامیابی کے ساتھ ان کھیلوں کی میزبانی کر چکا ہے۔ طویل عرصے کے بعد ان کھیلوں کا پاکستان میں انعقاد ملک میں بین الاقوامی اسپورٹس کی مکمل بحالی اور خطے میں پاکستان کے ممتاز ورزشی مقام کی توثیق کرتا ہے۔














