میٹا کے بانی کی جانب سے واٹر فورڈ میں تاریخی قلعے کی خریداری نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ دنیا کے امیر ترین افراد آئرش قلعوں کی طرف کیوں کھنچے چلے آ رہے ہیں۔
میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ اور ان کی اہلیہ پریسیلا چان نے آئرلینڈ کے کاؤنٹی واٹر فورڈ میں 19ویں صدی کا تاریخی اسٹرینکالی کاسٹل اور اس سے منسلک 440 ایکڑ وسیع اراضی خرید لی ہے۔
اگرچہ معاہدے کی حتمی قیمت ظاہر نہیں کی گئی، تاہم جائیداد کی مالیت کا تخمینہ 20 سے 30 ملین یورو، یعنی تقریباً 23 سے 35 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔
Mark Zuckerberg just bought a 19th-century Gothic stone castle in Ireland for ~€25 million
16,000 sq ft of cut stone
Set on 440 acresBuilt to last centuries
This is what billionaires should do
Most of the buildings funded by tech money are designed to be replaced within a… pic.twitter.com/urGD5qH8dU
— Arka Serezh (@ArkaSerezh) August 22, 2026
زکربرگ خاندان اس تاریخی جائیداد کو آئرلینڈ میں قیام کے دوران استعمال کرے گا، جہاں میٹا کا بین الاقوامی ہیڈکوارٹر بھی موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹیکنالوجی کی دنیا کا ایک اور بڑا قدم: مارک زکربرگ کا ’اے آئی کلون‘ میٹا عملے سے بات چیت کرے گا
یہ تاریخی قلعہ ایک گوتھک طرز کی 3 منزلہ رہائش گاہ ہے، جو تقریباً 1830 میں تعمیر کی گئی تھی۔ قلعہ تقریباً 16,000 اسکوائر فٹ رقبے پر مشتمل ہے اور اس کے اردگرد وسیع سبزہ زار، جنگلات اور دریائے بلیک واٹر تک پھیلا ہوا 440 ایکڑ کا وسیع رقبہ موجود ہے۔
یہ محل سابق رکن پارلیمنٹ جان کیلی کے لیے تعمیر کیا گیا تھا اور اس کا ڈیزائن معروف معمار بھائیوں جمیز اورجارج رچرڈ پین نے تیار کیا تھا۔ قلعے کی تعمیر میں بلند برج، مضبوط فصیل نما ساخت اور تاریخی طرز تعمیر نمایاں ہے۔
تاریخی قلعے خریدنے کے اس رجحان کے پیچھے تاریخی رومانس، مکمل پرائیویسی اور عالمی سطح پر اسٹیٹس کیلیے انمٹ چاہت جیسے محرکات کارفرما ہیں۔
تاریخ کے آئینے میں قلعوں کی حیثیت
آئرلینڈ میں قلعوں کی تاریخ 12 ویں صدی سے جڑی ہے جب اینگلو نارمنز نے یہاں اپنی فتوحات اور زمینی تسلط کو مستحکم کرنے کیلیے ان عمارات کی بنیاد رکھی تھی۔
Mark Zuckerberg Buys an Irish Castle
The prominent landowner has added a nearly 200-year-old estate to his holdings. Archival information says it can take “a brisk walk of 4½ minutes to reach the dining room from the kitchen.” https://t.co/FFVIptOi4W pic.twitter.com/pKl6FpL5QN— Sigurdur Nordal (@essenviews) August 22, 2026
ماہرین کے مطابق یہ قلعے شروع دن سے ہی طاقت، اثر و رسوخ اور مخالفین پر رعب دبدبے کی علامت رہے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ جب معاشرہ فیوڈلزم سے نکل کر سرمائے کی دنیا میں داخل ہوا تو قلعوں کی دفاعی ضرورت ماند پڑ گئی اور یہ اشرافیہ کےلیے اپنے وقار اور سماجی رتبے کے اظہار کا ایک فیشن ایبل ذریعہ بن گئے۔
نامور شخصیات کی آئرلینڈ میں قلعوں سے دلچسپی
مارک زکربرگ اکیلے ایسے شخص نہیں ہیں جنہوں نے اس خطے کا رخ کیا ہو۔ ان سے پہلے بھی کئی عالمی شہرت یافتہ شخصیات آئرلینڈ کے تاریخی قلعے خرید چکی ہیں۔
مزید پڑھیں:مستقبل میں اسمارٹ گلاسز کے بغیر زندگی کا تصور مشکل ہوگا،مارک زکربرگ
آئرش دارالحکومت میں میٹا کا بین الاقوامی ہیڈ کوارٹر ہونے کی وجہ سے زکربرگ کی یہ خریداری کاروباری اور عملی حوالے سے بھی خاصی اہم سمجھی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار جیرمی آئرنز، امریکی ارب پتی جان مالون، فلمساز کرسٹی کیشمن اور ہالی ووڈ اداکار ڈومینک ویسٹ کی اہلیہ کیتھرین فٹز جیرالڈ بھی آئرلینڈ میں تاریخی جائیدادوں اور قلعوں کی مالکن ہیں۔
رومانس، ورثہ اور پرائیویسی کی تلاش
ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی بالخصوص امریکی سرمایہ کار آئرلینڈ کے ماضی کے ساتھ ایک جذباتی اور رومانوی رشتہ محسوس کرتے ہیں۔
Meta CEO Mark Zuckerberg just purchased a centuries-old castle in Ireland, becoming the latest tech billionaire to buy one in the country. pic.twitter.com/Z0RseGbQdH
— CBS News (@CBSNews) August 21, 2026
آسٹریلیا اور امریکا جیسے ممالک کے برعکس آئرلینڈ کی قدیم تاریخ اور قلعوں کا آرکیٹیکچر انہیں اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ دوسری طرف، ان جائیدادوں کے ساتھ منسلک وسیع و عریض رقبہ اور تنہائی نامور شخصیات کو وہ پرائیویسی اور سیکیورٹی فراہم کرتی ہے جو وہ اپنی عام مصروفیات سے ہٹ کر تلاش کرتے ہیں۔
مقامی تحفظات اور کمیونٹی کے حقوق
اگرچہ مقامی کونسلوں کی طرف سے ان سرمایہ کاریوں کا خیرمقدم کیا جاتا ہے اور اسے خطے کی خوبصورتی کا اعتراف سمجھا جاتا ہے، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس سے بعض اوقات عامتہ الناس کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کیا انسٹاگرام اور واٹس ایپ مارک زکربرگ کی ملکیت نہیں رہیں گے؟ فیصلہ عدالت کرے گی
وسیع زمینوں کا نجی تحویل میں جانا اور تاریخی مقامات کا عام لوگوں کی رسائی سے باہر ہونا ماحولیاتی اور سماجی مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ نئے مالکان اس تاریخی ورثے کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ مقامی کمیونٹی اور قانون کا بھی بھرپور احترام کریں۔













