گلاسگو کی ہائیکورٹ نے ایک 17 سالہ لڑکے کو، جو ہٹلر، مسولینی اور ناروے کے بدنام زمانہ قاتل اینڈرس بریوِک سے متاثر تھا اور مسجد پر دہشتگرد حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، 10 سال قید اور رہائی کے بعد 8 سال تک نگرانی میں رکھنے کی سزا سنائی ہے۔
استغاثہ کے مطابق یہ نوجوان جس کا نام عمر کی وجہ سے ظاہر نہیں کیا گیا، گریناک (انوِرکلائیڈ) کے ایک اسلامی مرکز کو نذرِ آتش کرنا چاہتا تھا۔ وہ اس مقصد کے لیے امام مسجد کا اعتماد حاصل کر چکا تھا اور اپنے موبائل فون پر عمارت کے اندرونی نقشے بنا رہا تھا۔ جنوری 2025 میں جب وہ مرکز کے دروازے پر پہنچا تو پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔ اس کے بیگ سے ایک جرمن ساختہ ایئر پستول، گولیاں، بیئرنگز، گیس کارتوس اور ایروسول کین برآمد ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں: نائیجر: شدت پسندوں کا مسجد پر حملہ، بازار و گھر نذر آتش، درجنوں افراد ہلاک
عدالت میں استغاثہ نے بتایا کہ یہ نوجوان دسمبر 2024 سے آن لائن شدت پسندی کا شکار ہوا اور منصوبہ بنانے لگا۔ اس نے مسجد کے واٹس ایپ گروپ میں شمولیت اختیار کی اور رہنمائی کی تلاش کا بہانہ بنا کر امام کا اعتماد حاصل کیا۔
ان ملاقاتوں کے دوران وہ مرکز کا جائزہ لیتا رہا جبکہ دوسری طرف ٹیلیگرام پر اپنے منصوبے کا ڈھنڈورا پیٹتا اور آگ لگانے کی باتیں کرتا رہا۔ یہاں تک کہ اس نے مسجد کے اندرونی مناظر کی ویڈیو بھی بنائی جس میں نیم خودکار پستول کی تصویر فوٹیج پر چڑھا رکھی تھی۔
عدالتی کارروائی کے دوران جج نے ریمارکس دیے کہ تم جو سوچ رہے تھے وہ ایک انتہائی خوفناک اور شیطانی کارروائی تھی جس میں بے تحاشا تشدد اور درجنوں ہلاکتیں ہو سکتی تھیں۔ تم نے یہ خواہش بھی ظاہر کی تھی کہ تمہارا حملہ لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے نشر کیا جائے۔ تمہاری حرکت صرف اس وقت رک سکی جب پولیس نے تمہیں مرکز کے دروازے پر ہی گرفتار کرلیا۔
کراؤن آفس اور فیسکال سروس کی ڈپٹی پراسیکیوٹر نے کہاکہ یہ بھیانک منصوبہ اپنی ہی مقامی کمیونٹی کے لوگوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا تھا، جو نسلی اور مذہبی نفرت سے بھرا ہوا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نوجوان نہ صرف نیو نازی نظریات رکھتا تھا بلکہ انہیں عملی طور پر درد و اذیت دینے کے لیے استعمال کرنے والا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مسجد پر حملہ: کینیڈا میں اسلاموفوبیا کے لیے کوئی جگہ نہیں: جسٹن ٹروڈو
یہ فیصلہ اس امر کی سنگین یاد دہانی ہے کہ آن لائن شدت پسندی کس طرح نوجوان ذہنوں کو متاثر کر کے انہیں خطرناک حد تک لے جا سکتی ہے۔














