نسلہ ٹاور کیس: عدالت نے سابق ڈی جی ایس بی سی اے منظور کاکا سمیت تمام ملزمان کو بری کردیا

جمعرات 21 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ کی صوبائی اینٹی کرپشن عدالت نے نسلہ ٹاور کی زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق مقدمے میں سابق ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے منظور قادر کاکا سمیت تمام ملزمان کو بری کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: نسلہ ٹاور کے متاثرین کو معاوضہ: زمین کی نیلامی کا فیصلہ، اشتہار جاری

اینٹی کرپشن کورٹ کے جج امین اللہ صدیقی نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ استغاثہ الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا، جس کی بنیاد پر ملزمان کو بری کیا گیا۔

عدالت سے بری ہونے والوں میں سابق ڈی جی ایس بی سی اے منظور قادر کاکا کے ساتھ سابق ڈائریکٹرز علی مہدی کاظمی، علی غفران، سابق ڈپٹی ڈائریکٹر سمیع صدیقی اور علی ظفر جعفری سمیت دیگر افراد شامل ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ملزمان پر نسلہ ٹاور کے بلڈر کو نقشے سے ہٹ کر غیر قانونی زمین دینے کا الزام تھا، تاہم استغاثہ اس حوالے سے کوئی ٹھوس شواہد فراہم نہ کرسکا۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ: نسلہ ٹاور کیس میں 2 ملزمان کی ضمانت منظور

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر فروری 2022 میں شارع فیصل پر تعمیر شدہ نسلہ ٹاور کو غیر قانونی قرار دے کر گرا دیا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھارت اور امریکا کے مابین تجارتی معاہدہ طے پاگیا، معاہدے سے سپلائی چین مستحکم ہوگا، نریندر مودی

بی این پی کا انتخابی منشور جاری، ’فیملی کارڈ‘ سمیت 9 بڑے وعدے

ڈونلڈ ٹرمپ نے بارک اوباما سے متعلق شیئر کی گئی اپنی توہین آمیز ویڈیو کی خود ہی مذمت کردی

جماعتِ اسلامی کے امیر کی بی این پی چیئرمین کو براہِ راست عوامی مباحثے کی دعوت

ٹرمپ کا اوباما خاندان کے خلاف نسل پرستانہ پوسٹ پر معافی سے انکار

ویڈیو

اسلام آباد امام بار گاہ میں خود کش دھماکا بھارت کی سرپرستی میں کیا گیا، وزیر مملکت برائے داخلہ کی میڈیا سے گفتگو

امریکا ایران کشیدگی: سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے واشنگٹن کو کیا پیغام دیا؟

لاہور میں بسنت کے تہوار پر تاریخی جشن

کالم / تجزیہ

پاکستان کا پیچا!

’کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شور سنو‘

مغربی تہذیب کا انہدام!