بنگلہ دیش کی مرکزی اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات سے قبل اپنا انتخابی منشور جاری کر دیا ہے، جس میں معاشی ریلیف، سماجی بہبود اور طرزِ حکمرانی میں اصلاحات کے لیے 9 بڑے وعدے شامل کیے گئے ہیں۔
یہ منشور جمعے کی سہ پہر ڈھاکہ کے سونارگاؤں ہوٹل میں منعقدہ تقریب میں باضابطہ طور پر پیش کیا گیا، جہاں بی این پی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان نے پارٹی رہنماؤں، کارکنان اور مدعو مہمانوں سے خطاب کیا۔
’فیملی کارڈ ‘ منشور کا مرکزی نکتہ
منشور کا سب سے اہم اور نمایاں وعدہ ’فیملی کارڈ‘ پروگرام کا اجرا ہے، جس کے تحت کم آمدنی اور محروم طبقے کے خاندانوں کو ماہانہ 2,500 بنگلہ دیشی ٹکا یا اس کے مساوی ضروری اشیائے خورونوش فراہم کی جائیں گی۔
بی این پی کے مطابق ملکی مالی گنجائش بہتر ہونے پر اس رقم میں بتدریج اضافہ بھی کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے جماعتِ اسلامی کے امیر کی بی این پی چیئرمین کو براہِ راست عوامی مباحثے کی دعوت
بی این پی نے کسانوں کے لیے ’فارمر کارڈ‘متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت سبسڈی، آسان قرضے، فصلوں کا بیمہ اور زرعی پیداوار کی سرکاری سطح پر مارکیٹنگ شامل ہوگی۔
ماہی گیروں، مویشی پال حضرات اور دیہی سطح کے چھوٹے کاروباری افراد کو بھی اس نظام میں شامل کیا جائے گا۔
صحت کے شعبے میں ایک لاکھ ملازمتیں
منشور کے مطابق بی این پی اقتدار میں آ کر ملک بھر میں 1 لاکھ ہیلتھ ورکرز بھرتی کرے گی، جبکہ ضلعی اور میٹروپولیٹن سطح پر زچہ و بچہ، حفاظتی اور بنیادی صحت کی سہولیات کو وسعت دی جائے گی۔
تعلیمی اصلاحات اور پرائمری اسکولوں میں مڈ ڈے میل
بی این پی نے تعلیمی نظام میں اصلاحات کا وعدہ کرتے ہوئے عملی مہارتوں، اخلاقی تربیت، ٹیکنالوجی کے فروغ، اساتذہ و طلبہ کی معاونت اور پرائمری اسکولوں میں مڈ ڈے میل پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
نوجوانوں کے لیے روزگار اور اسپورٹس کا فروغ
منشور میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، تکنیکی اور زبانوں کی تربیت، اسٹارٹ اپ اور انٹرپرینیورشپ کی حوصلہ افزائی اور سرکاری ملازمتوں میں میرٹ کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ضلعی اور تحصیل سطح پر کھیلوں کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنا کر کھیل کو بطور پیشہ فروغ دینے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
بی این پی نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے 10 ہزار کلومیٹر دریاؤں اور نہروں کی کھدائی، پانچ سال میں 15 کروڑ درخت لگانے اور عوامی شمولیت سے جدید ویسٹ مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے بھارت سے معاہدوں کا الزام بے بنیاد اور سیاسی پروپیگنڈا ہے، بی این پی
منشور میں تمام مذاہب کے مذہبی رہنماؤں کے لیے فلاحی اور تربیتی پروگرام شروع کرنے، بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے، ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانے، پے پال جیسے عالمی ادائیگی نظام فعال کرنے، علاقائی ای کامرس حب قائم کرنے اور ’میڈ اِن بنگلہ دیش‘ مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
’عوام کے ساتھ نیا سماجی معاہدہ‘
بی این پی قیادت کے مطابق یہ منشور محض انتخابی وعدوں کا مجموعہ نہیں بلکہ عوام کے ساتھ ایک نیا سماجی اور سیاسی معاہدہ ہے۔
پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ خوف، جبر اور دباؤ کی سیاست کے بجائے انصاف، جوابدہی اور جمہوری طرزِ حکمرانی کو فروغ دینا چاہتی ہے۔
شفاف انتخابات اور قانون کی بالادستی کا وعدہ
بی این پی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اقتدار میں آ کر انتخابی عمل کی ساکھ بحال کی جائے گی، کرپشن اور تشدد کا خاتمہ کیا جائے گا، قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے گا اور کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہوگا۔














