پرانی کتابوں کا بازار کسی جادو نگری سے کم نہیں، کیسی کیسی نادر و نایاب کتابیں، رسالے اور اخبارات اس سونے کی کان سے نکلتے ہیں، کتنے ہی علمی، ادبی اور صحافتی لعل و گہر یہیں سے میرے ہاتھ لگے۔ بقول میر:
سونا لیا ہے گودوں میں بھر کر وہیں سے ہم
انگریزی کا معروف رسالہ ہیرلڈ پاکستانی صحافت پر انمٹ نقوش چھوڑ کر چند سال پہلے بند ہوگیا تھا۔ یہ میرا پسندیدہ پرچہ ہے لہٰذا اس کا کوئی شمارہ نظر آئے تو میں خرید لیتا ہوں اور سچی بات ہے اسے پڑھ کر میں مقروض ہو جاتا ہوں۔ ہر شمارے میں ایسا کچھ خاص ضرور ہوتا ہے جس کی بنا پر آپ اسے سینت کر رکھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں 32 برس پرانا شمارہ مل گیا تو اس میں برصغیر کے ممتاز موسیقار او پی نیر کا انٹرویو ’حاصلِ غزل‘ تھا۔ اس میں میری دلچسپی کی بڑی وجہ لاہور کے بارے میں ان کی گفتگو تھی۔ اس مختصرسی گفتگو کی مدد سے ان کی لاہور سے درد بھری محبت کا خاکہ تیار ہو سکتا ہے جس میں ہم بعض دوسرے حوالوں سے رنگ بھرنے کی کوشش بھی کریں گے۔ اس سے ہٹ کر نور جہاں اور نیرہ نور کے بارے میں او پی نیر کے توصیفی کلمات سے طبیعت سرشار ہوگئی جن کی آوازوں نے نہ جانے کب سے دیوانہ بنا رکھا ہے۔ پاکستانی موسیقاروں کی تعریف سے بھی جی شاد ہوا۔
یہ گفتگو پڑھنے کے بعد خیال آیا کہ اسے دوسروں تک پہنچایا جائے، جس کی بہترین صورت یہی لگی کہ اس پر کچھ لکھا جائے۔
تفصیل کچھ یوں ہے کہ معروف لکھاری آصف نورانی نے 1993 میں ہیرلڈ کے لیے او پی نیر سے مذکورہ انٹرویو کیا تھا۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ لاہور کو یاد کرتے ہیں تو جواب میں اس شہر سے اپنائیت ظاہر کرنے سے پہلے انہوں نے بمبئی کی برائی کی: ’میں بمبئی کو پسند نہیں کرتا، یہ بہت ہی پُرہجوم ہے اور اس کا کوئی کریکٹر نہیں ہے۔‘
اس کے بعد وہ لاہور کی شان میں یوں رطب اللسان ہوتے ہیں:
’آپ مجھے پاکستان کی نیشنلٹی دیں تو میں اپنی زندگی کے آخری چند سال اس عظیم شہر میں بسر کرنا پسند کروں گا۔‘
انٹرویو میں وہ ان کلفت بھرے دنوں کا تذکرہ چھیڑتے ہیں جب تقسیم کے بعد انہیں لاہور سے نکلنا پڑا تھا، وہ قاضی ثنااللہ کا نام لیتے ہیں۔ اس نیک نفس نے فرقہ ورانہ فسادات کے ہنگام ان کی جان بچائی تھی۔ وہ فسادات کی حکایت خوں چکاں کو طول دینے سے گریز کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ اس کا خیال آتے ہی انہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنی عقل گم کر دیں گے۔ ان کی نظر میں مذہبی لیڈروں نے انسانیت اور سیاست دانوں نے قوموں کو تقسیم کردیا۔
آصف نورانی ان کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہیں جس کے مطابق وہ لاہور اس لیے نہیں گئے کہ وہاں پہنچتے ہی بہت زیادہ جوش و خروش سے ان کو ہارٹ اٹیک ہو جائے گا۔
او پی نیر اپنے اس بیان پر صاد کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہاں یوں ہو بھی جائے تو ٹھیک ہے کیوں کہ میں کسی بھی دوسری جگہ کی بہ نسبت لاہور میں زیادہ پُرسکون موت مر سکوں گا۔
انٹرویو میں ان سے ایک فلم میں کام کرنے کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو اس کا کھرا بھی لاہور میں جا نکلتا ہے جہاں انہوں نے پنجابی فلم ’دلا بھٹی‘ میں چائلڈ اسٹار کے طور پر دلا بھٹی کے بچپن کا رول کیا تھا، یہ فلم کملا مووی ٹون نے بنائی تھی۔
او پی نیر کو نوجوانی میں بھی اداکار بننے کی للک تھی، اس کی سند نامور گلوکار ڈاکٹر امجد پرویز کی موسیقاروں کے بارے میں کتاب ’میلوڈی میکرز‘ سے ملتی ہے:
’او پی نیر نے اپنے دوست شیام سے جو ایک مانے ہوئے اداکار تھے، فلم ایکٹر بننے کے لیے فلم میں چانس دلوانے میں ان کی مدد کرنے کے لیے کہا لہٰذا ان کا ٹیسٹ لیا گیا مگر وہ کامیاب نہ ہوئے۔‘
ڈاکٹر امجد پرویز نے لکھا ہے کہ او پی نیر نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا تھا کہ ان کا بچپن بیماری اور فرسٹریشن میں گزرا تھا۔ پڑھائی کی طرف بھی ان کی طبیعت نہیں آتی تھی اس لیے ریڈیو سے چائلڈ گلوکار کے طور پر نتھی ہو گئے تھے۔
او پی نیر نے ہیرلڈ سے انٹرویو میں ملکہ ترنم نور جہاں کی آواز کی بڑی تعریف کی جس کے ساتھ اپنی دھنوں کے ملاپ نہ ہونے کا انہیں افسوس تھا۔ ان کے خیال میں نور جہاں کی آواز میں ایک خاص ’تھرو‘ ہے جس سے لتا منگیشکر محروم ہیں۔ وہ نور جہاں کے مشہور گانے ’بدنام محبت کون کرے‘ کی مثال دینے کے بعد کہتے ہیں کہ ان کی آواز میں خاص معصومیت اور خاص بھاری پن ہے۔
دلچسپ بات ہے کہ ان کی نور جہاں سے کبھی ملاقات نہ ہو سکی اور انہوں نے ایک دو بار بس انہیں لاہور ریڈیو اسٹیشن پر اس زمانے میں دیکھا جب وہ کالے برقعے میں وہاں آیا کرتی تھیں۔
معروف تاریخ دان ڈاکٹر اشتیاق احمد نے تقسیم سے پہلے انڈین سنیما میں پنجاب کے کنٹری بیوشن پر اپنی کتاب میں کئی جگہ او پی نیر کا تذکرہ کیا ہے۔ ایک جگہ انہوں نے پنجابی فلم ’پاٹے خان‘ میں نور جہاں کی آواز میں ‘کلی کلی جان دکھ لکھ تے کروڑ وے’ کو سراہا ہے اور او پی نیر کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان کے نزدیک یہ گانا فنکارانہ کمال کی انتہا ہے۔
لاہور میں موسیقار کے طور پر او پی نیر کا سب سے بڑا کارنامہ ’پریتم آن ملو‘ تھا جسے ان کی کمپوزیشن اور سی ایچ آتما کی آواز نے لافانی بنا دیا۔ آصف نورانی نے انٹرویو سے پہلے اپنی تعارفی تحریر میں اس گیت کے ساتھ ایک اور گانے ‘کون نگر تیرا دور کنارہ’ کا ذکر کیا ہے۔ اسے بھی سی ایچ آتما نے آواز دی تھی۔ او پی نیر کو اپنی اس محنت کا صلہ 20 روپے فی گیت ملا اور ریکارڈنگ کمپنی نے منافع کے ساتھ ساتھ موسیقار کو اس کا کریڈٹ نہ دینے کا ظلم کمایا اور وہ اس شہرت سے محروم رہے جس کے وہ ‘پریتم آن ملو’ کی وجہ سے حق دار تھے۔
لاہور ریڈیو سے وہ اپنی آواز کا جادو بھی جگاتے رہے، اس سے باہر بھی شوق پورا کیا، 1946 میں انہوں نے ماسٹر عنایت کی کمپوزیشن میں ایک گیت بھی ریکارڈ کروایا پر جلد انہیں احساس ہوگیا کہ گلوکاری ان کا میدان نہیں، دھنیں تخلیق کرنا ان کا اصل ہنر ہے۔
لاہور ریڈیو اسٹیشن فن موسیقی میں ان کی پہلی تربیت گاہ تھی لیکن ذاتی حوالے سے اس کی اہمیت یہ ٹھہری کہ اسی جگہ ان کی ملاقات اپنی ہونے والی پتنی سروج سے ہوئی تھی جو اسٹیج ڈانسر تھیں۔
او پی نیر نے اپنے انٹرویو میں ان پاکستانی موسیقاروں کے کام کو بہت سراہا: خواجہ خورشید انور، فیروز نظامی، ماسٹرعنایت، رشید عطرے اور سہیل رانا۔
او پی نیر کا آشا بھوسلے سے ذاتی اور فنی تعلق ایک لمبے عرصے پر محیط رہا۔ اس جوڑی نے بہت سے امر نغمے دیے۔ اس فنی اشتراک کی آخری نشانی ‘چین سے ہم کو کبھی آپ نے جینے نہ دیا’ کی صورت میں یادگار ہے۔ یہ گانا بعد میں نیرہ نور نے لائیو گایا تو ان کی آواز کے سریلے پن اور مٹھاس سے او پی نیر بہت متاثر ہوئے تھے۔
او پی نیر نے نیرہ نور کی آواز میں ‘ان کا اشارہ جان سے پیارا’ کے بارے میں اپنی مختصر مگر جامع داد ’سبحان اللہ‘ کہہ کردی۔
او پی نیر کو ناصر کاظمی کا کلام پسند تھا۔ انہوں نے انٹرویو میں بتایا:
’ناصر کاظمی کی کچھ غزلیں میری یادداشت میں تھیں، میں نے ان کی دھنیں بنائی ہیں۔ اگر نیرہ نور انہیں ریکارڈ کرانے پر آمادہ ہو جائیں تو دریائے سندھ اور دریائے گنگا میں آگ لگ جائے۔ میرا خیال ہے نیر اور نیرہ ہی ایسے توپ و تفنگ کے ساتھ سامنے آ سکتے ہیں۔‘
او پی نیر نے پاکستانی گلوکاروں اور موسیقاروں کی تعریف میں کبھی بخل سے کام نہ لیا۔ لاہور سے الفت کا بھی کھل کا اظہار کیا جس کا ایک بین ثبوت ہیرلڈ کا انٹرویو بھی ہے۔ دوسری طرف پاکستانیوں نے بھی ان کے فن کی ستائش اور لاہور سے ان کے تعلق خاطر کے بیان میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس کی کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں لیکن ہم تین پراکتفا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر امجد پرویز نے ’میلوڈی میکرز‘ میں ان کے فن کا بھرپور جائزہ لیا ہے۔
ڈاکٹر اشتیاق احمد کی کتاب کا تذکرہ اوپر آچکا ہے۔
ڈاکٹر شاہد صدیقی کی لائق مطالعہ کتاب ‘آسماں در آسماں’ میں ان فنکاروں کے قصے ہیں جنہیں تقسیم کی لہر سرحد پار لے گئی تھی۔ اس میں ایک مضمون ‘لاہور کا او پی نیر’ ہے جس میں شہر سے ان کے تعلق کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ موسیقار کے طور پر ان کے کارناموں پر بھی نظر ڈالی گئی ہے۔ اس کتاب کے ایک اقتباس پر ہم اپنی بات ختم کرتے ہیں:
’اس نے زندگی میں جس چیز کی خواہش کی اسے حاصل کیا، صرف ایک تمنا ایسی تھی جو پوری نہ ہو سکی۔ اپنے دلبر شہر لاہور جانے اور اس کے گلی کوچے دیکھنے کی تمنا۔ وہی لاہور جس کے در و بام میں ایک سحر ہے۔ جو یہاں سے چلا بھی جائے اپنی روح کا ایک حصہ یہاں پر چھوڑ جاتا ہے۔‘
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













