انصاف ہاؤس سکھر سیل، 60 سے زائد کارکنان گرفتار، پی ٹی آئی

جمعرات 11 مئی 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پولیس نے انصاف ہاؤس سکھر کو سیل کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے  60 سے زائد کارکنان کو حراست میں لے لیا۔

پی ٹی آئی سندھ کے میڈیا سیل کے جاری کردہ بیان کے مطابق پی ٹی آئی سندھ کے جنرل سیکریٹری مبین جتوئی نے پولیس چھاپے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس اس طرح دفاتر پر دھاوے بول رہی ہے جیسے ہم کوئی کالعدم تنظیم ہوں۔

مبین جتوئی کا کہنا تھا کہ سندھ بھر سے پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنان کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی نے پارٹی دفاتر پر حملوں کی غلط روایت کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کو متنبہ کیا کہ وہ جو آج بو رہی ہے وہی کاٹے گی۔

سندھ پولیس پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پولیس کا ادارہ بھی پی ڈی ایم کا حصہ ہے اور وہ پولیس اپنے فرائض پورے کرنے کی بجائے پیپلز پارٹی کا عسکری ونگ بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ  پی ٹی آئی کے خلاف مسلسل انتقامی کارروائیاں بند کی جائیں۔

مبین جتوئی نے کہا کہ بے گناہ اور نہتے کارکنان کو گرفتار کر کے دہشت گردی کے مقدمات درج کیے جارہے ہیں لیکن پارٹی اپنے کارکنان کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور اسے عدالتوں سے بھی انصاف کی امید ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

چین کی ترقی عالمی معیشت کے لیے مثال، پاک چین دوستی ہر آزمائش میں مضبوط ثابت ہوئی، اسحاق ڈار

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

بنگلہ دیش میں ارجنٹینا سے غیر معمولی محبت کیوں؟ میراڈونا سے میسی تک جذباتی رشتہ

دنیا کے آلودہ ترین شہر’دہلی‘ میں فضائی آلودگی سے نمٹنے کا کیا نیا منصوبہ بنایا جارہا ہے؟

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

ویڈیو

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز