پی ٹی آئی کے سابق رہنما شیرافضل خان مروت نے علیمہ خان کے بیٹوں کی گرفتاری میں کردار ادا کرنے کے حوالے سے لگائے گئے الزام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سال قبل جب عمران خان نے مجھے بلایا اور گلے لگایا تو علیمہ خان نے کہا تھا کہ یہ شیرافضل مروت جھوٹ بول رہا ہے، عمران خان نے گلے نہیں لگایا۔
یہ بھی پڑھیں:میں پی ٹی آئی میں ہوتا تو عمران خان مئی 2024 میں رہا ہو چکے ہوتے، شیر افضل مروت
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ علیمہ خان نے میرے خلاف دوسرا الزام یہ لگایا کہ “یہ وکیل بھی نہیں ہے۔” پھر جب ان کے ایما پر عمران خان نے مجھے پارٹی سے نکالا تو انہوں نے مزید بیان دیا اور آخر میں کہا کہ یہ تو اسٹیبلشمنٹ کا ایجنٹ ہے۔

شیرافضل مروت کا کہنا تھا کہ علیمہ خان کے ان بیانات کے بعد سوشل میڈیا میرے پیچھے لگ گیا اور آج تک پیچھے ہے۔ ان کے مطابق اسی کے بعد انہوں نے شیر شاہ کا نام لیا۔
یہ بھی پڑھیں:علیمہ خان کے بیٹے شیر شاہ اور شاہریز کون ہیں؟
علیمہ خان کے بیٹوں پر ریاست مخالف بیانیہ چلانے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں شیرافضل مروت نے کہا کہ “بابا کوڈو، اڈیالہ کی بلی اور جوکر” نامی اکاؤنٹس سے بیرسٹر گوہر، علی محمد خان، شاندانہ گلزار، علی امین گنڈاپور، فواد چوہدری اور میرے خلاف بیانیہ چلانے کے شواہد ملے ہیں۔ فی الحال یہ صرف الزامات ہیں، تاہم اگر ثابت ہوئے تو میں ردِعمل دوں گا۔













