پیرس: فرانس نے امریکی سفیر کو الزامات پر طلب کر لیا

پیر 25 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فرانس نے امریکا کے سفیر چارلس کشنر کو طلب کیا ہے۔ کشنر نے ایک کھلے خط میں صدر ایمانویل میکرون پر الزام لگایا تھا کہ فرانس یہودی مخالف تشدد روکنے میں ناکام رہا ہے۔

یہ خط امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہوا جس میں کشنر نے فرانس کی جانب سے اسرائیل پر تنقید اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اقدامات کو یہودی مخالف رویہ قرار دیا۔

مزید پڑھیں: امریکا کی بھارت کو پھر تنبیہ، روسی تیل کی درآمدات پر ’سنجیدگی‘ دکھانے کا مطالبہ

فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں ناقابلِ قبول اور داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ فرانس یہودی مخالف تعصب کے خلاف پوری طرح پرعزم ہے اور ایسے الزامات دونوں ممالک کے تعلقات کو متاثر کرتے ہیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے البتہ اپنے سفیر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کشنر فرانس میں امریکی حکومت کے مفادات کے فروغ کے لیے بہترین کردار ادا کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:  ایران امریکا کے اطاعت کے مطالبے کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا رہے گا،  آیت اللہ خامنائی

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس اور دیگر یورپی ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلانات کر چکے ہیں، جس پر اسرائیل اور اس کے قریبی اتحادی امریکا نے سخت ردعمل دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟